ترکیہ نے حوثیوں کے خلاف فوج بھیجنے کا امکان مسترد کر دیا

Wait 5 sec.

انقرہ: ترکیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے باوجود یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی فوج کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر نہیں بھیجے گا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے گزشتہ روز انقرہ میں اپنے ہنگری ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے جارحانہ کارروائیوں کے لیے نہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ اگر معاہدے میں شامل کسی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو دیگر ممالک اس کے دفاع میں اس کا ساتھ دیں گے تاہم ترکیہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملہ کرنے کے لیے اپنی فوج روانہ نہیں کرے گا۔اُنہوں نے کہا کہ ترکیہ اور سعودی فوجی حکام سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کا جائزہ لے رہے ہیں اور خاص طور پر فضائی دفاع، برقی جنگی صلاحیتوں اور تکنیکی معاونت کے شعبوں میں ممکنہ تعاون پر غور کیا جارہا ہے۔رائٹرز کا کہنا ہے کہ ترکیہ پہلے ہی سعودی عرب کو بنیادی طور پر دفاعی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہا ہے جس میں فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس، نگرانی، جاسوسی، ڈرون آپریٹرز اور دفاعی منصوبہ بندی میں معاونت شامل ہے۔واضح رہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم معاہدے کی ترکیہ کی پارلیمنٹ سے توثیق ابھی باقی ہے۔فی الحال امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، عباس عراقچییہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حوثیوں نے سعودی شہروں اور تنصیبات پر حملوں میں اضافہ کردیا ہے اور ریاض اپنے اتحادیوں سے دفاعی تعاون حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔