موت کے انجیکشن سے دو بار بچنے والی کرسٹا پائیک کو ہوش آ گیا، باتیں بھی کرنے لگی

Wait 5 sec.

ٹینیسی: سزا یافتہ قاتل کرسٹا پائیک، جو گزشتہ ہفتے امریکی ریاست ٹینیسی میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دیے جانے کی کوشش میں زندہ بچ گئی تھیں، ہوش میں آ گئی ہیں اور بات کر رہی ہیں۔روئٹرز کے مطابق بدھ کو کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی، لیکن یہ کوشش ناکام رہی، اُن کے وکلا نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ اس دوران بازوؤں کی وریدوں میں مہلک دوا پہنچانے کے لیے آئی وی نلکیاں ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن دوا وریدوں کی بجائے باہر ٹشوز میں رِس گئی، جس سے بازو شدید زخمی ہو گئے۔دراصل پینٹوباربیٹل سے خاتون کے بازو سوج گئے، اور جل کر ان پر چھالے پڑ گئے، وکلا کے مطابق 50 سالہ پائیک اب بھی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، اور انھیں اسپتال کے بستر سے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کے ذریعے باندھ کر رکھا گیا ہے۔کرسٹا پائیک وہ امریکی خاتون ہیں جنھیں 1995 میں اپنے 19 سالہ ہم جماعت کولین سلیمر کو اذیت دے کر قتل کے جرم میں ریاست ٹینیسی میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ 30 ستمبر کی شب ریاستی دارالحکومت نیش وِل کے ریور بینڈ میکسمم سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں انھیں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی، لیکن دو بار مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود وہ زندہ بچ گئیں اور انھیں اسپتال منتقل کرنا پڑا۔مقتول لڑکی کولین سلیمروکلا نے بیان میں کہا کہ ’’پائیک کی صحت یابی کے امکانات کے بارے میں اب بھی کچھ واضح نہیں ہے، تاہم اس میں کچھ عرصہ تو لگے گا۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ پائیک کے مقدمے کی سماعت بدھ کو ڈیوڈسن کاؤنٹی چانسری کورٹ میں مقرر ہے۔ایک ترجمان نے بتایا کہ بدھ کو اس درخواست پر سماعت ہوگی جو پائیک کے وکلا نے عدالت میں دائر کی ہے، وکلا چاہتے ہیں کہ عدالت ناکام سزائے موت سے متعلق تمام شواہد محفوظ رکھنے کا حکم دے، کیوں کہ یہ شواہد ثابت کریں گے کہ ٹینیسی ڈپارٹمنٹ آف کریکشن نے پائیک کو ظالمانہ اور غیر معمولی سزا دی، وکلا کا کہنا ہے کہ اس طرح محکمہ نے پائیک کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔وکلا نے جمعہ کو بتایا تھا کہ اُن کی مؤکلہ بے ہوش اور انتہائی تشویش ناک حالت میں اور سانس لینے کے لیے وینٹی لیٹر پر ہیں، جب کہ ڈاکٹر ان کے جسم سے پینٹوباربیٹل نامی دوا خارج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم منگل کو وکلا نے بتایا کہ تمام تر ناموافق حالات کے باوجود کرسٹا پائیک ہوش میں آ گئی ہیں اور اب بات کر رہی ہیں اور انھیں بدستور انتہائی اہم طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔قاتل لڑکی کرسٹا پائیک کی مختلف عمر کی تصاویرپائیک کی جانب سے معافی کی درخواست گزشتہ ہفتے ری پبلکن گورنر بل لی نے مسترد کر دی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ پائیک کی سزائے موت کا فیصلہ کرتے وقت ان کے بچپن کے صدمے کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ پائیک کے وکلا کے مطابق وہ بچپن میں جنسی زیادتی اور غفلت کا شکار رہی تھیں۔ انھیں ذہنی بیماری بھی لاحق تھی جس کا علاج نہیں کیا گیا تھا۔پائیک طویل عرصے تک ریاست میں سزائے موت پانے والوں کی فہرست میں شامل واحد خاتون رہی ہیں۔ ان کے وکلا کے مطابق انھوں نے تقریباً 30 سال قیدِ تنہائی بھی کاٹی۔ وہ 19 ویں صدی کے اوائل کے بعد ٹینیسی میں سزائے موت دینے کی کوشش کا سامنا کرنے والی پہلی خاتون تھیں یعنی 200 برسوں میں پہلی۔ اس کے بعد وہ امریکا کی پہلی معلوم شخص بن گئیں جو سزائے موت کے لیے مہلک دوائیں دیے جانے کے باوجود زندہ بچ گئی۔مہلک انجیکشن میں ناکامیسزائے موت کے مخالفین نے کہا کہ اس واقعے نے سزائے موت دینے کے عمل کی بنیادی سفاکیت کو ظاہر کر دیا ہے۔ پائیک کے وکلا اور اس واقعے کو دیکھنے والے صحافیوں نے بتایا کہ سزائے موت دینے کی یہ کوشش تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران شدید بدنظمی ہوئی اور پائیک کو طویل اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ کریکشن ڈپارٹمنٹ کے اہلکار پینٹوباربیٹل کی 2 ڈوزیں وریدوں کے ذریعے دینے کی کوشش کرتے رہے۔کرسٹا پائیک مہلک انجیکشن بھی جس کا کچھ نہ بگاڑ سکااس عمل کے دوران پائیک کو ہانپتے، روتے، سسکتے اور زور زور سے سانس لیتے ہوئے سنا گیا۔ ایک موقع پر انھوں نے کہا ’’ایسا لگ رہا ہے جیسے میرا بازو پھٹنے والا ہے۔‘‘وریدوں میں دوا پہنچانے کے لیے آئی وی لگانے کی ناکام کوشش کے نتیجے میں پائیک کے دونوں بازو سوج گئے، جل گئے اور ان پر چھالے پڑ گئے۔ ان کے وکلا نے عدالتی دستاویزات میں کہا کہ بہ ظاہر اس کی وجہ یہ تھی کہ پینٹوباربیٹل، جو انتہائی زیادہ الکلائن اور جلد کو جلا دینے والا مادہ ہے، جلد کے نیچے موجود بافتوں میں رِس گیا تھا۔وکلا نے ریاستی حکام پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے پائیک کے ڈاکٹروں کی ان سابقہ تنبیہات کو نظر انداز کیا تھا کہ ان کی وریدیں چھوٹی ہیں اور خون کی ایک بیماری کے باعث ان میں آئی وی لائنیں لگانا خاص طور پر مشکل ہوگا۔کرسٹا پائیک پولیس کی کسٹڈی میںاس کارروائی کے دوران پائیک کے وکلا نے ہنگامی طور پر عدالت میں درخواست دائر کی کہ سزائے موت دینے کا عمل روک دیا جائے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس وقت تک جیل حکام سزائے موت دینے کی کوشش روک چکے تھے اور ایمبولینس طلب کر چکے تھے۔کمشنر کا استعفیٰسزائے موت دینے کی کوشش کے بعد کریکشن ڈپارٹمنٹ نے اپنے طریقۂ کار کا دفاع کیا۔ محکمے نے کہا کہ اس نے سزائے موت دینے کے لیے ریاست کے قانونی اور طے شدہ طریقۂ کار کے ہر مرحلے پر عمل کیا۔ تاہم، گورنر نے ہفتے کو اعلان کیا کہ کریکشن ڈپارٹمنٹ کے کمشنر فرینک اسٹرادا نے استعفیٰ دے دیا ہے، وہ اسی ماہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔گورنر لی اس سے قبل رواں سال کے باقی عرصے کے لیے مقررہ سزائے موت کے تمام کیسوں پر عمل درآمد روکنے اور پائیک کے معاملے میں پیش آنے والے واقعے کی تیسرے فریق سے تحقیقات کرانے کا حکم دے چکے تھے۔علاوہ ازیں، پائیک کو سزائے موت دیے جانے سے 2 روز قبل گورنر لی نے ان کی ایک درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس درخواست میں سزائے موت کو ایسی عمر قید میں تبدیل کرنے کی اپیل کی گئی تھی جس میں پیرول پر رہائی کی اجازت نہ ہو۔30 سال قبل کیا ہوا تھا؟جنوری 1995 میں پائیک کی عمر 18 سال تھی۔ اس وقت انھوں نے اپنے 17 سالہ بوائے فرینڈ ٹیڈیرل شپ اور ایک تیسرے ساتھی کے ساتھ مل کر سلیمر کو ٹینیسی یونیورسٹی کے ناکس وِل کیمپس کے ایک جنگل نما علاقے میں لے جا کر قتل کر دیا تھا۔کرسٹا پائیکقتل کی یہ واردات انتہائی سنگین اور ہولناک تھی۔ شپ نے مقتولہ کے سینے پر پانچ کونوں والا نشان (پنٹاگرام) کھود کر بنایا تھا۔ پائیک نے سلیمر کے سر پر اسفالٹ کا ایک ٹکڑا مارا تھا۔ اس کے بعد پائیک نے اس کی کھوپڑی کا ایک ٹکڑا بطور یادگار اپنے پاس بھی رکھ لیا تھا۔ اس واقعے کو اس وقت میڈیا میں بڑے پیمانے پر کوریج ملی تھی۔مقدمے کی سماعت کے دوران پیش کیے گئے بیانات سے ظاہر ہوا کہ پائیک سلیمر کو اپنے بوائے فرینڈ کی محبت حاصل کرنے کی حریف سمجھتی تھیں۔ پائیک اور شپ نے قتل کا اعتراف کر لیا تھا۔ دونوں کو فرسٹ ڈگری قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ پائیک کو سزائے موت سنائی گئی، جب کہ شپ کو پیرول کی ممکنہ سہولت کے ساتھ عمر قید کی سزا دی گئی۔ان کے ساتھ مقدمے میں شریک شادولا پیٹرسن اس قتل کے وقت 18 سال کی تھیں۔ وہ پائیک اور شپ کے لیے نگرانی کر رہی تھیں۔ شادولا نے استغاثہ کی جانب سے گواہی دی اور انھیں پروبیشن دے دی گئی۔