روس کو تیل کی فروخت یوکرین جنگ کو طول دینے کے مترادف ہے: یوکرینی صدر کا امریکا روس ڈیل پر سخت ردِعمل

Wait 5 sec.

کیف(10 اکتوبر 2026): یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکا اور روس کے درمیان ہونے والی مبینہ ڈیزل ڈیل اور روسی تیل کی فروخت کی اجازت پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ روس کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے سے ماسکو کو یوکرین جنگ کے لیے اضافی فنڈز میسر آئیں گے، اور روس اس کے جواب میں مزید جارحیت اور بدعہدی سے کام لے گا۔صدر زیلنسکی نے زور دے کر کہا کہ روس پر پابندیوں کو نرم کرنا مغرب کی کمزوری کی علامت ہے۔روسی صدر پیوٹن کو اس قسم کے تحائف دینے سے نہ تو خطے میں امن قائم ہوگا اور نہ ہی مہذب دنیا کو اس کا کوئی فائدہ پہنچے گا۔ٹرمپ کی پیوٹن سے گفتگو، روس امریکا کو ڈیزل فراہم کرے گاانہوں نے انتباہ کیا کہ روس سے تیل خریدنے کا کوئی بھی معاہدہ براہِ راست اس تباہ کن جنگ کو مزید طول دینے میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے۔یوکرینی صدر نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا اب بھی موثر انداز میں روس پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے کشیدگی میں کمی کا معاہدہ کروا سکتا ہے، اس لیے روس پر عائد پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی برتنے سے پہلے جنگی کشیدگی میں حقیقی کمی لانا ناگزیر ہے۔