گیانیش کمار تنازعہ: ممبئی میں مہاتما گاندھی کے پرپوتے تشار گاندھی اور لکھنؤ میں کئی این ایس یو آئی کارکنان حراست میں

Wait 5 sec.

مہاتما گاندھی کے پرپوتے تشار گاندھی کو ممبئی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ وہ آج ممبئی میں الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کرنے والے تھے، لیکن اس سے قبل ہی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ ’اگست کرانتی میدان‘ جاتے وقت ممبئی پولیس نے نیشنل کالج کے قریب انہیں حراست میں لیا۔ دراصل کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے آج دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کے پیش نظر ممبئی میں بھی پولیس نے سیکورٹی سخت کر دی ہے۔Mahatma Gandhi’s great-grandson Tushar Gandhi detained ahead of Mumbai protest backing CJPhttps://t.co/yTM6wAU90i— Economic Times (@EconomicTimes) October 10, 2026رپورٹس کے مطابق دادر کے شیواجی پارک میں پولیس نے سیکورٹی کے انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ جگہ جگہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ 2 اکتوبر کو شیواجی پارک میں ہوئے احتجاج کے دوران تشار گاندھی بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ ایسے میں پولیس کو خدشہ ہے کہ سی جے پی ایک بار پھر احتجاج کر سکتی ہے۔ اسی کے پیش نظر احتیاطاً سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ شیواجی پارک کے مرکزی دروازے پر پولیس تعینات ہے، تاکہ کوئی بھی مظاہرہ کرنے والا پارک کے اندر داخل نہ ہو سکے۔دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج سے قبل اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں پولیس نے دہلی جا رہے کمیونسٹ رہنماؤں اور اپوزیشن طلبہ تنظیموں کے کارکنان کے خلاف کارروائی کی۔ لبریشن کے ضلعی سکریٹری رمیش سینگر کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا، جبکہ لکھنؤ یونیورسٹی سے این ایس یو آئی کے عہدیداروں اور طلبہ کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان میں احمد رضا اور شبھم کھرکوار سمیت کئی طلبہ شامل ہیں۔ اس معاملے میں کانگریس کی ریاستی صدر آرادھنا مشرا کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے، انہوں نے اس کارروائی کو جمہوریت کا قتل قرار دیا۔اتر پردیش کانگریس کی ریاستی صدر آرادھنا مشرا نے طلبہ اور تنظیم کو احتجاج میں شرکت سے روکنے پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنا اپوزیشن کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اپنی بات رکھنا اور حکومت کی غلط پالیسیوں کی مخالفت کرنا جمہوری حق ہے۔ احتجاج کو روکنا جمہوریت کا قتل کرنے کے مترادف ہے۔ این ایس یو آئی کے احمد رضا نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے کروڑوں ہندوستانی شہریوں کے نام کاٹے جانے کا الزام عام شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی اور آئین کی توہین ہے۔ جب تک گیانیش کمار کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، ان کی تنظیم پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اس سلسلے میں نوجوانوں کی مہم مسلسل جاری رہے گی۔