نیویارک(10 اکتوبر 2026): ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف ارب پتی ایلون مسک نے مودی حکومت اور کاروباری اجارہ داری کی بحث پھر چھیڑ دی۔ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف ارب پتی ایلون مسک نے بھارت میں اپنے سیٹلائٹ انٹرنیٹ پروجیکٹ "اسٹار لنک” کے آغاز میں ہونے والی تاخیر پر بھارتی بزنس ٹائیکون مکیش امبانی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر طنزیہ انداز میں مکیش امبانی کو بھارت کا "اصل باس” قرار دیتے ہوئے مودی سرکار کے کاروباری مفادات کے تحت چلائے جانے سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔Dear Prime Minister Ambani,Please accept my humble apologies for not realizing that you are the real boss of India.Naturally, you would prefer to maintain your monopolistic exploitation of the great people of India, but would you nonetheless consider allowing Starlink to compete?There are many areas of India, as there are in all countries, with no Internet access, which denies children the opportunity for education and for small businesses the opportunity to sell their goods to a global market. Starlink would change their lives for the better.Thank you — Elon Musk (@elonmusk) October 9, 2026ایلون مسک نے ایکس پر اپنے چبھتے ہوئے جملے میں لکھا پیارے وزیراعظم امبانی، براہِ کرم میری عاجزانہ معذرت قبول کریں کہ میں یہ نہ سمجھ سکا کہ بھارت کے اصل باس آپ ہیں۔ایلون مسک کے اس جملے نے بھارتی سیاست اور ملکی معیشت پر بڑے سرمایہ داروں کی اجارہ داری پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ایلون مسک نے امبانی پر مزید طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی عوام پر اپنی اجارہ دارانہ بالادستی کا استحصال قائم رکھنا پسند کریں گے، لیکن اس کے باوجود کیا وہ اسٹار لنک کو بھارتی مارکیٹ میں مقابلے کی اجازت دینے پر غور کریں گے؟ایلون مسک کا موقف تھا کہ بھارت کے کئی دور دراز علاقوں میں اب بھی انٹرنیٹ کی عدم دستیابی معاشی و تعلیمی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سہولت کے نہ ہونے سے بچے تعلیم کے مواقع سے محروم ہیں اور چھوٹے تاجر عالمی منڈی تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے، جبکہ اسٹار لنک ان کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چند طاقتور سرمایہ دار اپنے مفادات اور اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے اسٹار لنک کے راستے میں روڑے اٹکلا رہے ہیں، جو کہ بھارتی عوام کے خلاف ایک قسم کا جرم ہے۔بھارتی سیاست اور حکومت کا موقفایلون مسک کے ان بیانات نے بھارتی اپوزیشن کو بھی نیا موقع فراہم کر دیا ہے، جو پہلے ہی مودی سرکار پر چند مخصوص بڑے کاروباری گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔دوسری جانب بھارتی وزارتِ مواصلات نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ سیٹلائٹ سروسز کے لیے ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ نظام موجود ہے۔بھارتی حکومت کے مطابق تین کمپنیوں کو لائسنس دیے گئے ہیں اور تمام کمپنیاں اس وقت لازمی سیکورٹی اور ڈیٹا کی مقامی کاری کے جانچ کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ سیکورٹی کی حتمی منظوری کے بعد ہی کسی بھی کمپنی کو سپیکٹرم الاٹ کیا جائے گا۔ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ غیر ملکی کمپنی ہونے کی وجہ سے حکومت کو حساس ڈیجیٹل سیکورٹی خدشات لاحق ہیں، جبکہ دوسری طرف مقامی ٹیلی کام جائنٹس کو یہ خدشہ ہے کہ اسٹار لنک کی بلا تعطل آمد سے ان کی مارکیٹ کی بالادستی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔