اے آئی نے امریکی پولیس کو بھی دھوکا دے دیا، لیکن کیسے؟

Wait 5 sec.

فلاڈیلفیا : امریکی پولیس محکمے کی ویب سائٹ پر اے آئی ماڈل نے خفیہ آپریشن کے ذریعے قتل کیس سے متعلق جعلی اطلاع جمع کرادی، حقیقت سامنے آئی تو سب حیران رہ گئے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے جدید ماڈلز کے غیر متوقع اور غیر مجاز اقدامات کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا، جہاں ٹیکنالوجی کمپنی اینتھروپک کے اے آئی ماڈل نے امریکی شہر فلاڈیلفیا کی پولیس کی ویب سائٹ پر ایک زیرِ تفتیش قتل کے مقدمے سے متعلق جعلی اطلاع جمع کرا دی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اینتھروپک نے جمعے کو انکشاف کیا کہ اس کے ’کلاڈ‘ اے آئی ماڈلز نے وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کی بعض سرکاری ویب سائٹس پر بغیر اجازت مختلف کارروائیاں کی ہیں۔کمپنی کی جانب سے ان واقعات سے وائٹ ہاؤس اور متعلقہ سرکاری اداروں کو آگاہ کردیا گیا ہے، تاہم ان اداروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔فلاڈیلفیا پولیس کے مطابق 18 جولائی کو غیر حل شدہ قتل کے مقدمات سے متعلق پولیس کی ویب سائٹ کے ذریعے ایک اطلاع موصول ہوئی۔"The Philadelphia Police Department said earlier on Friday that it had been notified by Anthropic that its technology had submitted a false homicide tip to the agency’s website. The tip was dated July 18 and claimed that the submitter had information about an unsolved case, the department said." https://t.co/0K07waowEn— Kaitlan Collins (@kaitlancollins) October 10, 2026اطلاع دینے والے نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس مقدمے سے متعلق معلومات موجود ہیں اور اس نے قتل کے وقت جائے وقوعہ کے قریب ایک ایسے شخص کو دیکھا تھا جو مبینہ مشتبہ شخص سے مشابہت رکھتا تھا۔تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اطلاع کسی حقیقی عینی شاہد کی جانب سے نہیں بلکہ اینتھروپک کے اے آئی ماڈل کی خودکار کارروائی کا نتیجہ تھی۔پولیس کے مطابق اینتھروپک نے رواں ہفتے اس واقعے سے متعلق حکام کو آگاہ کیا اور اسے ایک خودکار آزمائشی عمل سے جوڑا۔خوش قسمتی سے پولیس کے سسٹم نے اطلاع کو اسپیم قرار دے کر روک دیا، جس کے باعث یہ تفتیشی عمل یا متعلقہ حکام تک نہیں پہنچ سکی۔فلاڈیلفیا پولیس نے تاہم اس واقعے کی نشاندہی اور اسے رپورٹ کرنے میں تقریباً دو ماہ کی تاخیر کو ناقابل قبول قرار دیا، حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں پولیس کے نظام تک غیر مجاز رسائی یا کسی حساس ڈیٹا کے متاثر ہونے کے شواہد نہیں ملے۔رائٹرز کے مطابق اینتھروپک نے ایسے دیگر واقعات کی بھی نشاندہی کی ہے جن میں کلاڈ ماڈلز نے بعض ایسی عوامی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جن تک رسائی کے لیے عموماً فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک یونیورسٹی کے زیر انتظام عوامی ٹول میں موجود خامی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی سامنے آئی۔اس کے علاوہ اے آئی ماڈلز نے یو آر ایل مختصر کرنے والی مفت آن لائن خدمات استعمال کرتے ہوئے بعض تکنیکی پابندیوں سے بچنے کی صلاحیت بھی ظاہر کی۔یہ واقعات اس بڑھتی ہوئی بحث کو مزید تقویت دے رہے ہیں کہ ایسے اے آئی نظام جب خودکار طور پر انٹرنیٹ پر کارروائیاں کرنے کے قابل ہوں تو وہ انسانی نگرانی کے بغیر غیر متوقع اقدامات بھی کرسکتے ہیں۔رائٹرز کے مطابق ستمبر میں اینتھروپک کی حریف کمپنی اوپن اے آئی نے بھی آسٹریلیا کے صحت سے متعلق ایک ڈیٹا پورٹل کو اے آئی ایجنٹ کے ذریعے ہیک کیے جانے پر معذرت کی تھی۔امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جو گیبریل سائمنسن نے کہا کہ سپر انٹیلی جنس پر کام کرنے والی کمپنیوں کو اپنے اے آئی ماڈلز سے متعلق ایسے واقعات فوری طور پر ظاہر کرنے چاہییں اور ممکنہ نقصان کے ازالے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہییں۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اے آئی ماڈلز کو محض سوالات کے جواب دینے کے بجائے ویب سائٹس پر خودکار کارروائیاں کرنے، معلومات تلاش کرنے اور مختلف ڈیجیٹل کام انجام دینے کی صلاحیت دی جا رہی ہے، جس کے ساتھ ان کے غیر متوقع فیصلوں اور ممکنہ غلط استعمال کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔