ٹینیسی : سزائے موت میں ناکامی کے بعد کرسٹا پائیک ہوش میں آگئی، شدید بیماری کے باعث اب وہ اپنے جسم کو حرکت نہیں دے سکتی۔امریکی ریاست ٹینیسی میں موت کی سزا پر عمل درآمد میں ناکامی کے بعد 50 سالہ کرسٹا پائیک ہوش میں آگئی۔ وکلا کے مطابق پائیک اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور اس کی حالت بدستور تشویشناک ہے، تاہم منگل کو اچانک ہوش میں آنے کے بعد اس نے بات چیت شروع کی۔روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق مجرمہ پائیک کو ایک ہفتہ قبل عدالتی حکم پر جان لیوا انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم دو بار انجکشن لگانے کے باوجود اس کی موت واقع نہیں ہوسکی اور بعد ازاں اسے بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ہلنے جلنے اور کھانے پینے قاصر مجرمہ کے وکیل نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ پائیک ہوش میں آنے کے بعد سے شدید غصے اور الجھن کا شکار ہے اور اسے اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی تھی۔وکلا کے مطابق پائیک اب بھی شدید نمونیا میں مبتلا ہے اور غذا کو نگلنے اور کھانے پینے سے قاصر ہے، جبکہ اس کے ہاتھ اور بازو انتہائی سوجے ہوئے ہیں اور وہ انہیں حرکت بھی نہیں دے سکتی۔رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کو بھی اس بات کا یقین نہیں کہ اب وہ مکمل طور پر اپنی جسمانی حرکت دوبارہ حاصل کرپائے گی۔ تاہم ذہنی الجھن کے باوجود وہ اردگرد موجود افراد سے گفتگو کررہی ہے، اس دوران اس نے مقتول لڑکی کے اہل خانہ کے بارے میں بھی دریافت کیا۔واضح رہے کہ قتل کی مجرمہ کرسٹا پائیک کو 1995 میں اپنی 19 سالہ اسکول ساتھی کولین سلیمر کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس کے وکلا کے مطابق وہ امریکا میں پھانسی کی مکمل کوشش کے بعد زندہ بچ جانے والی پہلی خاتون ہے۔سزائے موت سے متعلق شواہد محفوظ رکھنے کا حکمسزائے موت میں ناکامی کے بعد گزشتہ روز سماعت کے موقع پر عدالت نے حکم دیا کہ سزا پر عمل درآمد میں ناکامی سے متعلق تمام اہم شواہد محفوظ رکھے جائیں۔عدالتی احکامات میں سرنجیں، ادویات کی پیکنگ اور بیچ نمبرز، کیتھیٹرز، آئی وی لائنز، اسٹریچر کی پابندیاں، واقعے کی رپورٹس، گواہوں کے بیانات اور متعلقہ اندرونی پیغامات شامل ہیں۔پائیک کے وکلا کے مطابق پھانسی دینے والی تمام خواتین پر مشتمل ٹیم نے دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی کوشش کے دوران کم از کم سات سوئیاں استعمال کی گئیں، جبکہ ایک سوئی نکالنے کے وقت تقریباً 90 ڈگری تک مڑی ہوئی تھی۔جج نے مقدمے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے توقع نہیں کی تھی کہ پائیک کوشش کے باوجود زندہ بچ جائے گی۔