آنے والے مہینوں میں کیا ہونے والا ہے؟ خوفناک پیشگوئی سامنے آگئی

Wait 5 sec.

جینوا: دنیا بھر میں ‘ال نینو’ کی بڑھتی ہوئی شدت کے باعث آنے والے مہینوں میں عالمی درجہ حرارت، موسم اور ماحول پر پڑنے والے اثرات نے عالمی ماہرین اور سائنسدانوں کی تشویش میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ عالمی موسمیاتی عمل ‘ال نینو'(El Niño) دسمبر میں اپنے عروج پر پہنچنے سے قبل مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے باعث یہ 1950 کے بعد سے ریکارڈ کیے گئے شدید ترین موسمی مظاہر میں سے ایک بننے کا امکان ہے۔آنے والے مہینوں میں عالمی درجہ حرارت، موسم اور ماحول پر پڑنے والے اثرات سے متعلق عالمی ماہرین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔قوامِ متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ قدرتی موسمیاتی نظام ‘ال نینو’ (El Nino) دسمبر میں اپنے عروج پر پہنچنے سے قبل انتہائی تیز رفتاری سے شدت اختیار کر رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 1950 کے بعد سے ریکارڈ کیا جانے والا تاریخ کا شدید ترین ‘ال نینو’ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر شدید گرمی، خشک سالی اور سیلابوں کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔عالمی موسمیاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا ھیا استوائی بحرِ الکاہل کے درمیانی اور مشرقی حصوں میں سمندری سطح کا درجہ حرارت غیر معمولی سطح تک بڑھ چکا ہے۔جون میں درجہ حرارت کی تبدیلی معمول سے 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھی، جو اگست میں بڑھ کر 2.5 ڈگری سینٹی گریڈ ہو گئی۔اکتوبر تا دسمبر 2026 کے دوران یہ اضافہ 3.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو کہ 2015-2016 کے گزشتہ ریکارڈ (2.6 ڈگری) کو پیچھے چھوڑتے ہوئے تاریخ کی بلند ترین سطح ہو گی۔ڈبلیو ایم او کی سربراہ سیلسٹ ساؤلو کا کہنا ہے کہ ‘ال نینو’ زمین میں نئی حرارت پیدا نہیں کرتا، بلکہ سمندر کے اندر ذخیرہ شدہ حرارت کو فضائے بسیط میں خارج کرتا ہے۔ چونکہ اس وقت دنیا کے سمندر تاریخ کی گرم ترین سطح پر ہیں، اس لیے خارج ہونے والی حرارت کی مقدار بھی سابقہ تمام ریکارڈز سے زیادہ ہے۔بین الاقوامی موسمیاتی مراکزی کے اتفاقِ رائے کے مطابق اس بات کا 100 فیصد امکان ہے کہ یہ شدید ‘ال نینو’ فروری 2027 تک برقرار رہے گا۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں بارشوں کے پیٹرن تبدیل ہوں گے اور مختلف خطوں کی معیشت، زراعت اور ماحولیاتی نظام پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔مرکزی امریکہ سمیت متعدد خطوں میں شدید خشک سالی کے باعث پہلے ہی فصلیں اور مویشی تباہ ہو رہے ہیں، جبکہ آنے والے مہینوں میں النیٹو کے اثرات کے باعث عالمی درجہ حرارت میں مزید خطرناک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ النیٹو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو دنیا بھر میں درجہ حرارت اور بارشوں کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی مسلسل بڑھتی ہوئی شدت نے آنے والے مہینوں میں عالمی درجہ حرارت، موسم اور ماحول پر پڑنے والے اثرات سے متعلق عالمی ماہرین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔