دہلی فساد معاملہ میں عآپ کے سابق کونسلر طاہر حسین قصوروار قرار، 12 دیگر ملزمین سبھی الزامات سے بری

Wait 5 sec.

دہلی کی ایک عدالت نے ہفتہ کے روز عام آدمی پارٹی (عآپ) کے سابق کونسلر طاہر حسین کو دہلی میں فسادات بھڑکانے کا قصوروار قرار دیا ہے۔ حالانکہ عدالت نے 2020 میں شمال مشرقی دہلی کے دیال پور میں ہوئے فسادات معاملے میں 12 دیگر ملزمین کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ ایڈیشنل سیشن جج پولستیہ پرماچلا نے حسین کو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 109 اور دفعہ 147 کے تحت قصوروار ٹھہرایا۔ تاہم، عدالت نے انہیں دیگر الزامات سے بری کر دیا ہے۔ عدالت نے طاہر حسین کی سزا کی مدت طے کرنے کے لیے 16 نومبر کو سماعت کی تاریخ مقرر کی ہے۔ تفصیلی عدالتی حکم کا انتظار ہے۔STORY | 2020 Delhi riots: Court convicts Tahir Hussain of abetment to rioting, acquits 12 othersREAD: https://t.co/f8hQpg8SYH(File Photo) pic.twitter.com/w8s1Dr7BQt— Press Trust of India (@PTI_News) October 10, 2026اس معاملے میں مجموعی طور پر 13 ملزمین تھے۔ طاہر حسین کے علاوہ اس کیس میں محمد شاداب، شاہ عالم، ریاضت علی، گلفام، راشد، محمد ریحان، محمد عابد، ارشد قیوم، ارشاد احمد، دیپک سنگھ سینی، نونیت اور مہک سنگھ شامل تھے۔ ان تمام ملزمین پر فساد برپا کرنے، املاک کو نقصان پہنچانے، آگ لگا کر نقصان پہنچانے اور مجرمانہ سازش رچنے سمیت کئی جرائم کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے طاہر حسین کے 12 ساتھی ملزمین کو تمام الزامات سے بری کردیا، جبکہ سابق کونسلر کو 2 الزامات میں قصوروار ٹھہرایا اور باقی الزامات سے بری کردیا۔قابل ذکر ہے کہ جولائی میں دہلی کی ایک عدالت نے 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل سے متعلق معاملے میں طاہر حسین اور 4 دیگر افراد کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔ یہ معاملہ انکت شرما کے والد رویندر کمار کی شکایت پر دیال پور پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر سے متعلق ہے۔ اس معاملے میں نام آنے کے بعد عآپ نے طاہر حسین کو معطل کردیا تھا۔ غور طلب ہے کہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات میں 53 افراد کی موت ہوگئی تھی، جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے تھے اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔