ریاض ایئرپورٹ پر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، ترجمان اتحادی افواج

Wait 5 sec.

ریاض: سعودی قیادت والی اتحادی افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ریاض ایئرپورٹ پر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ریاض ایئرپورٹ کے مسافر ٹرمینل پر حملہ دہشت گردی اور جنگی جرم ہے، حوثی ملیشیا کا حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔واضح رہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر میزائل حملے میں 12 افراد جاں بحق، اور 309 افراد زخمی ہو گئے ہیں، جب کہ متعدد کی حالت تشویش ناک ہے۔سعودی سول ایوی ایشن کے مطابق جاں بحق افراد میں 4 سعودی اور 2 بنگالی شہری شامل ہیں، مرنے والے دیگر افراد کا تعلق امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان سے ہے۔ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر حوثیوں کے میزائل حملے میں 12 افراد جاں بحقمیزائل حملے کے بعد شاہ خالد ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے، حفاظتی اقدامات کے تحت ایئرپورٹ آج رات 9 بجے تک بند رہے گا، نوٹم جاری کر دیا گیا، میزائل حملے میں املاک کو پہنچے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔روئٹرز کے مطابق ہفتے کا یہ حملہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی مملکت پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔ یہ حملہ کسی پیشگی اطلاع کے بغیر ہوا اور سعودی عرب کے خطرات سے آگاہ کرنے والے نظام نے کوئی انتباہ جاری نہیں کیا۔ اس ہفتے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس سے پہلے ہونے والے 2 حملوں میں 4 افراد ہلاک ہوئے تھے اور رن وے پر کھڑے سعودی تجارتی طیارے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔