علی خامنہ ای کا قتل اسرائیل کی سنگین غلطی تھی، سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف

Wait 5 sec.

تل ابیب: اسرائیلی فوج کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف یائر گولان نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ کا قتل اسرائیل کی سنگین غلطی قرار دے دیا۔یائر گولان نے کہا کہ جنگ کے آغاز پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کو قتل کرنا اسرائیل کی سنگین غلطی تھی اور ایران کے خلاف جنگ نے اسرائیل کی پوزیشن بدتر کر دی ہے۔ایک انٹرویو میں اسرائیلی فوج کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ڈیموکریٹس پارٹی کے لیڈر یائر گولان نے کہا ہے کہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے سے ایران میں قدامت پسند مضبوط ہو گئے ہیں، نیتن یاہو نے تاریخی موقع برباد کر دیا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق انھوں نے کہا سینئر خامنہ کا قتل اس لیے غلطی نہیں تھا کہ وہ مرنے کے مستحق نہیں تھے، بلکہ صرف اس لیے کہ اس سے اسرائیل کی ریاست کے مفادات پورے نہیں ہو پاتے۔ جب بھی کوئی معمر رہنما طویل عرصے تک اقتدار میں رہ چکا ہو تو اس صورتِ حال کا ایک خاص فائدہ ہوتا ہے، اور وہ پہلے ہی 86 سال کے تھے۔ٹرمپ کی سفیر پر ایک لاکھ ڈالر مانگنے کا الزام، امریکی محکمہ خارجہ کی تحقیقات شروعیائر گولان کا کہنا تھا علی خامنہ ای کو قتل کرنے سے ایران میں انقلابی حکومت کا تختہ الٹنے کی بہ جائے قدامت پسند مضبوط ہوئے اور اسرائیل کے اسٹریٹجک مفادات کو نقصان پہنچا، اور نیتن یاہو نے ایران جنگ میں ایسے غیر حقیقت پسندانہ اہداف رکھے جو حاصل کرنے میں اسرائیل کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔گولان کا کہنا تھا کہ خامنہ ای کی ہلاکت اور ان کے جانشین، ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، کی تقرری کے بعد ’’اب ہمارے سامنے پہلے سے زیادہ انتہا پسند اور پُرتشدد افراد رہ گئے ہیں۔‘‘