واشنگٹن(13 اکتوبر 2026): دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے امریکا کے 2026ء کے مڈ ٹرم الیکشن میں ری پبلکن پارٹی کی بھرپور مدد کرتے ہوئے جولائی سے اب تک 27 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز سے زائد کی رقم عطیہ کر دی ہے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک اس انتخابی مہم کے دوران سب سے بڑی مالی معاونت کرنے والے شخص بن کر ابھرے ہیں، ایلون مسک کی جانب سے دی گئی اس خطیر رقم کا بنیادی مقصد کانگریس میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت کو برقرار رکھنا ہے۔تفصیلات سب سے پہلے امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے منظر عام پر لائیں، جس کی تصدیق بعد میں ایلون مسک کی سیاسی ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے بھی کر دی۔تفصیلات کے مطابق ایلون مسک نے سینیٹ کے لیے ری پبلکن امیدواروں کی معاونت کرنے والے گروپ ’سینیٹ لیڈر شپ فنڈ‘ کو 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز فراہم کیے، جبکہ ان کی اپنی سیاسی ایکشن کمیٹی ’امریکا پی اے سی‘ کو 7 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز دیے گئے۔ایلون مسک کی دولت میں اچانک بڑا اضافہ، مجموعی اثاثے ایک کھرب ڈالر سے متجاوزاس کے علاوہ ٹیکساس میں ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن کی حمایت کے لیے بھی 1 کروڑ ڈالرز دیے گئے۔ یکم جنوری 2025 سے شروع ہونے والے موجودہ انتخابی دور میں ایلون مسک کے مجموعی سیاسی اخراجات تقریباً 36 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز تک پہنچ چکے ہیں، جو 2024کے الیکشن میں خرچ کی گئی رقم سے بھی زیادہ ہیں۔رواں برس مئی میں ایلون مسک نے یہ بیان دیا تھا کہ وہ مستقبل میں سیاسی اخراجات میں کمی کریں گے، اور ماضی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے کچھ اختلافات بھی سامنے آئے تھے۔تاہم، حالیہ ہفتوں میں دونوں شخصیات کے درمیان تعلقات میں دوبارہ گرمجوشی دیکھی گئی ہے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے انہیں اعلیٰ امریکی سائنسی اعزاز دیے جانے کا بھی امکان ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ایلون مسک کی کمپنیوں کے حکومتی معاہدوں اور محکمۂ حکومتی کارکردگی میں ان کے کردار کی تحقیقات کے مطالبات کے بعد، ان انتخابات کی اہمیت ایلون مسک کے لیے مزید بڑھ گئی ہے۔