گھریلو تشدد کے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری، ’اسپیک اپ‘ کے ذریعے متاثرین تک پہنچے گی کیرلم پولیس

Wait 5 sec.

کیرلم پولیس نے گھریلو تشدد سے نمٹنے اور استحصال کا سامنا کر رہی خواتین کی مدد کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ’اسپیک اپ‘ کے نام سے خصوصی ٹاسک فورس شروع کی ہے۔ اس کا مقصد متاثرین کو کسی خوف یا سماجی دباؤ کے بغیر مدد طلب کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ ریاست کے محکمہ داخلہ کے حکم کے بعد یہ خصوصی ٹاسک فورس آئی پی ایس افسر اجیتھا بیگم سلطان کی نگرانی میں کام کرے گی۔ یہ پروگرام متاثرین کو قانونی مدد، کونسلنگ، محفوظ رہنے کی جگہ اور روزی روٹی کے لیے مدد فراہم کرے گا، تاکہ وہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔You do not have to suffer in silence.Kerala Police is launching Speak Up — a dedicated response to domestic violence, with quicker intervention, confidential support and continued assistance for survivors.Speak up. Kerala Police is with you.For help & support: 1091 pic.twitter.com/YQAgAhRPgm— Ramesh Chennithala (@chennithala) October 8, 2026ریاستی وزیر داخلہ رمیش چنیتھلا نے جمعرات (8 اکتوبر) کو کہا کہ گھریلو تشدد ایک ’خاموش قاتل‘ (سائلنٹ کِلر) ہے، جو خواتین کو ذہنی اور جسمانی طور پر تباہ کر سکتا ہے۔ کسی بھی خاتون کو معاشی یا خاندانی خوف کی وجہ سے انصاف سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ کیرلم میں اس مسئلہ کا دائرہ تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ گزشتہ 7 سال میں ریاست میں گھریلو تشدد کے باعث 92 خواتین کی موت ہوئی ہے۔ کئی دیگر خواتین خوف کی وجہ سے بدسلوکی کی شکایت درج نہیں کراتیں۔ ’اسپیک اپ‘ خاص طور پر ایسی خواتین پر توجہ مرکوز کرے گا۔گھریلو تشدد میں مداخلت نہ کرنے والا ہر رشتہ دار ملزم نہیں، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہریاستی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ یہ پہل متاثرین کو یہ سمجھنے میں مدد دے گی کہ شکایت کیسے درج کی جائے اور انہیں دستیاب قانونی اقدامات اور شکایت درج ہونے کے بعد اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں بتائے گا۔ خواتین کو محفوظ ماحول میں اپنے تجربات شیئر کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی، جیسے کسی بہن یا قابل اعتماد دوست سے بات کرنا۔ ٹاسک فورس متاثرین کے ساتھ برتاؤ کرتے وقت روایتی پولیسنگ کے طریقوں سے ہٹ کر کام کرے گی۔ ان کی رازداری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ جب بدسلوکی کی اطلاع ملے گی تو پولیس افسر سادہ لباس میں متاثرہ خاتون سے رابطہ کریں گے۔ ہر معاملے کے لیے ایک الگ افسر مقرر کیا جائے گا۔ افسر ہر ہفتہ ذاتی طور پر معاملے کا جائزہ لے گا۔مودی حکومت میں بڑھی مہنگائی اور بے روزگاری کے سبب خواتین پر گھریلو تشدد میں ہوا اضافہ: الکا لامبارمیش چنیتھلا کے مطابق ایک مرکزی کمانڈ سنٹر بھی قائم کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل ہیلپ لائن، واٹس ایپ اور ایک خصوصی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے شکایات درج کی جا سکیں گی۔ متاثرین کی ذاتی معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ پولیس شیلٹر ہوم اور پیشہ ورانہ تربیتی مراکز فراہم کرنے کے لیے مقامی خود حکمرانی کے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔ آئی پی ایس افسر اجیتھا بیگم سلطان نے کہا کہ پولیس گھریلو تشدد کے معاملات میں قصوروار پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت اقدامات کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ان میں پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ اور پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ’اسپیک اپ‘ کو کیرلم پولیس کی تاریخ میں ایک اور اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ریاست نے 1973 میں ملک کا پہلا خواتین پولیس نظام شروع کیا تھا۔