بہار کی راجدھانی پٹنہ میں جمعرات (8 اکتوبر) کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’انڈیا بلاک‘ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مارچ نکالا۔ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد تیجسوی یادو کی قیادت میں لیڈران راج بھون کی جانب بڑھ رہے تھے، اسی دوران پولیس نے تیجسوی یادو، وی آئی پی سربراہ مکیش سہنی اور آر جے ڈی کی رکن پارلیمنٹ میسا بھارتی سمیت کئی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔हिरासत में लिए जाने के बाद पुलिस तेजस्वी यादव और मुकेश सहनी को SDPO की गाड़ी में बैठाकर ले गई. तेजस्वी यादव जिस पुलिस वाहन में बैठे थे, उसके ऊपर विधायक और महागठबंधन के कई कार्यकर्ता चढ़ गए और नारेबाजी करने लगे. मौके पर काफी देर तक हंगामे की स्थिति बनी रही.#TejashwiYadav… pic.twitter.com/pusEH3WWzd— Live Cities (@Live_Cities) October 8, 2026اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹایا جائے، ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیا جائے اور بہار میں دوبارہ انتخاب کرایا جائے۔ تیجسوی یادو کو حراست میں لیے جانے کے بعد سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ مارچ سے قبل تیجسوی یادو اسمبلی گولمبر پہنچے تھے۔ وہاں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن آج راج بھون تک مارچ کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گیانیش کمار، وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ووٹ چوری کے ذریعے ملک کے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ تیجسوی کا کہنا تھا کہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کر کے گیانیش کمار نے بی جے پی کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی۔#BreakingNews | तेजस्वी यादव-मुकेश सहनी और मीसा भारती हिरासत में, पटना में ज्ञानेश कुमार के खिलाफ राजभवन मार्च#TejashwiYadav #MukeshSahani #MisaBharti #Patna #BiharPolitics #RajBhavanMarch #GyaneshKumar #CEC pic.twitter.com/9Cxpv1ONLY— AajTak (@aajtak) October 8, 2026تیجسوی یادو نے یہ بھی کہا تھا کہ جب ان معاملات کی حقیقت سامنے آئی تو اپوزیشن پارٹیاں جمہوریت کو بچانے کے لیے متحد ہو گئیں۔ انہوں نے منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں، جسے ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل بدھ (7 اکتوبر) کو بھی بہار میں انڈیا بلاک نے ’گیانیش ہٹاؤ، جمہوریت بچاؤ‘ مہم کے تحت احتجاجی مارچ اور مظاہرہ کیا تھا۔ ریاست کے تمام 534 بلاکس میں احتجاج اور پتلے نذر آتش کرنے کا پروگرام رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد جمعرات کو ضلعی ہیڈکوارٹروں پر احتجاج اور پٹنہ میں تیجسوی یادو کی قیادت میں راج بھون مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔VIDEO | Patna: Bihar Leader of Opposition and RJD leader Tejashwi Yadav (@yadavtejashwi) climbs over the barricade as he leads the INDIA bloc's march to Lok Bhavan.(Full video available on PTI Videos - https://t.co/d8jp61yd2p)#Bihar #Patna pic.twitter.com/tgu9whDlKm— Press Trust of India (@PTI_News) October 8, 2026اپوزیشن کی یہ تحریک 2 مطالبات پر مرکوز ہے۔ پہلا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانا۔ دوسرا بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر اٹھ رہے سوالات۔ اپوزیشن پارٹیاں الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار پر سوال اٹھا رہی ہیں اور بہار میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ بھی کر رہی ہیں۔