نئی دہلی: انڈیا بلاک نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر اپنی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اس معاملے پر صدر جمہوریہ سے ملاقات کے لیے راشٹرپتی بھون تک مارچ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹاکر ان کے حق رائے دہی کو متاثر کیا گیا ہے۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے کہا کہ اپوزیشن رہنما جمہوریت اور حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے صدر جمہوریہ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مکمل طور پر آئینی عمل ہے اور انہیں امید ہے کہ صدر جمہوریہ ان سے ملاقات کریں گی۔بی جے پی کے اس الزام پر کہ انڈیا بلاک جمہوریت کے لیے خطرہ ہے، تیواری نے کہا کہ موجودہ حکومت میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جس کے خلاف اپوزیشن تحریک چلا رہی ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔پورنیہ کے رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی ووٹوں کی چوری، سوالیہ پرچوں کے افشا اور طلبہ سے متعلق مسائل مسلسل اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے قتل کی سازش رچے جانے کا دعویٰ بھی کیا۔ پپو یادو نے گیانیش کمار کو فوری طور پر برطرف کرکے جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ یہ تحریک اب عوامی تحریک بن چکی ہے اور لوگ سوال پوچھنے لگے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 13 کروڑ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے پر ملک خاموش نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق یہ احتجاج بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا سبب بنے گا۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منوج کمار نے کہا کہ جب تک ووٹوں کی مبینہ چوری کے معاملے میں متاثرین کو انصاف نہیں مل جاتا، اپوزیشن کی لڑائی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک تین دن نہیں بلکہ 30 دن یا 3 ہزار دن بھی چل سکتی ہے۔ انہوں نے گیانیش کمار سے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے 13.5 کروڑ افراد کے نام دوبارہ شامل کیے جائیں۔راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ نے کہا کہ گیانیش کمار کے خلاف تحریک ملک کی لڑائی ہے اور ان کی پارٹی اس جدوجہد میں عوام کو شامل ہونے کی دعوت دیتی ہے۔ کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے کہا کہ گیانیش کمار کی برطرفی تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر نے ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کیا ہے اور 16 لاکھ شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کے لیے سپریم کورٹ میں مطالبہ کیا ہے۔کانگریس رہنما حسین دلوائی نے بھی گیانیش کمار کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مبینہ غلطیوں کی وجہ سے 13 کروڑ افراد انتخابی عمل سے باہر ہوگئے ہیں۔ادھر سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ جان برٹاس نے کہا کہ گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر تحریک میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں طلبہ، نوجوان اور سماج کے دیگر طبقات بھی دہلی میں انڈیا بلاک کے احتجاج میں شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق پولیس مساجد میں جاکر مسلمانوں سے احتجاج میں شامل نہ ہونے کی اپیل بھی کر رہی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے واضح کیا کہ گیانیش کمار کے استعفے یا برطرفی کے مطالبے پر ان کی تحریک جاری رہے گی۔