سپر ایل نینو : گرمی کی شدت خطرناک حد تک بڑھ جائے گی

Wait 5 sec.

پیرس : موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پوری دنیا پر مؤثر انداز میں واضح ہو رہے ہیں اور اب ماہرین نے ایک اور بڑی موسمیاتی ایمرجنسی ’سپرایل نینو‘ سے متعلق بڑا انکشاف کردیا۔ان کا کہنا ہے کہ ’سپر ایل نینو‘ رواں سال 2026 اور 2027 کو بھی ریکارڈ گرم ترین سال بنا سکتا ہے، فی الوقت ایشیائی ممالک خصوصاً پاکستان اور بھارت کے خطوں میں کئی شہر غیر معمولی طور پر شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں۔عالمی اور یورپی یونین کے ماہرین کے مطابق سال 2026 اور 2027 میں ’سپر ایل نینو‘ اور بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ کے اثرات کے باعث دنیا بھر میں شدید ترین گرمی ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔سمندروں کا درجہ حرارت ریکارڈ سطح پرموسمیاتی ماہرین کے مطابق بحرالکاہل کے ایک اہم خطے میں ستمبر کے دوران سمندری درجہ حرارت نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل نینو کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔یورپی یونین کی موسمیاتی نگرانی سروس کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر کی سطح کا درجہ حرارت ستمبر میں 29.70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو اب تک ریکارڈ کیا جانے والا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔واضح رہے کہ ایل نینو رواں سال جون میں نمودار ہوا تھا اور ماہرین کے مطابق اس کی شدت میں اضافہ جاری ہے، تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ ایل نینو تاریخ کا سب سے طاقتور واقعہ ہے۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب جاپان کے محکمہ موسمیات نے بھی گزشتہ ہفتے قرار دیا تھا کہ ایل نینو کی موجودہ صورتحال ریکارڈ کی بلند ترین شدت تک پہنچ چکی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل نینو عموماً ہر دو سے سات سال کے دوران نمودار ہوتا ہے اور تقریباً 9 سے 12 ماہ تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی غیر معمولی طور پر گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف علاقوں میں بارشوں، خشک سالی، سیلاب اور درجہ حرارت کے معمولات متاثر ہوسکتے ہیں۔FOLLOW US ON ARY TUBEایل نینو اپنی شدت کے عروج کے بعد بھی عالمی درجہ حرارت کو متاثر کرسکتا ہے، کیونکہ بحرالکاہل میں ذخیرہ ہونے والی اضافی حرارت فضا میں منتقل ہوتی ہے، اسی وجہ سے بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2027 بھی دنیا کا گرم ترین سال بن سکتا ہے۔صورتحال کا سدباب کیسے ممکن؟ سائنس دانوں کے مطابق فوسل فیولز کے استعمال سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں میں تیزی سے کمی لانا اشد ضروری ہے تاکہ 1.5 ڈگری کی حد سے اوپر رہنے کا دورانیہ کم سے کم کیا جاسکے اور عالمی درجہ حرارت کو جلد از جلد دوبارہ نیچے لایا جاسکے۔موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی تباہی روکنے کیلیے بڑی پیش رفت