جن پتھ واقع ’ساگر رتن ریسٹورینٹ‘ میں انڈیا بلاک کی شریک پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ کی میٹنگ نے ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے ذریعہ اس ریسٹورینٹ میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو ظہرانہ کی دعوت دیے جانے پر پہلے ہی چہ می گوئیاں شروع ہو گئی تھیں، اور اب اس ظہرانہ کے دوران ایک نئے احتجاج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ظہرانہ کے بعد ریسٹورینٹ سے نکلتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ ’’انڈیا بلاک اتحاد کے سبھی ساتھی آج جنتر منتر پر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔‘‘INDIA गठबंधन के सभी साथी आज जंतर-मंतर पर ज्ञानेश कुमार के खिलाफ प्रदर्शन करेंगे। जब तक हमारी मांग पूरी नहीं हो जाती, हम प्रदर्शन करते रहेंगे। चुनाव आयोग जो भी कर रहा है, उसके पीछे नरेंद्र मोदी हैं। मतलब मोदी खुद लोकतंत्र को खत्म करने की कोशिश कर रहे हैं।इसलिए हम सभी पार्टी… pic.twitter.com/o6fNoj7mIk— Congress (@INCIndia) October 7, 2026کانگریس صدر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ ’’جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے، ہم مظاہرہ کرتے رہیں گے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’الیکشن کمیشن جو بھی کر رہا ہے، اس کے پیچھے نریندر مودی ہیں۔ یعنی مودی خود جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے ہم سبھی پارٹی کے لوگ مل کر ملک کے لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کا حق چھینا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’عوام کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہمارے اوپر کتنے بھی کیس کر دیے جائیں، ہم ڈرنے اور رکنے والے نہیں ہیں۔‘‘करीब 300 सांसद कल चुनाव आयुक्तों से मिलना चाहते थे, वो हमसे नहीं मिले। दिल्ली पुलिस ने हमें रोका और कहा- यहां प्रदर्शन नहीं कर सकते। इसलिए आज हम जो प्रोटेस्ट साइट जंतर-मंतर है, वहां जाकर बैठेंगे और देश को बताएंगे कि ज्ञानेश कुमार देश के वैध इलेक्शन कमिश्नर नहीं हैं। नरेंद्र… pic.twitter.com/Wxp9JGPsL5— Congress (@INCIndia) October 7, 2026ریسٹورینٹ سے نکلنے کے بعد لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بھی میڈیا اہلکاروں کے سامنے کچھ باتیں رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’تقریباً 300 اراکین پارلیمنٹ کل الیکشن کمشنرز سے ملاقات کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ ہم سے نہیں ملے۔ دہلی پولیس نے ہمیں روکا اور کہا کہ یہاں مظاہرہ نہیں کر سکتے۔ اس لیے آج ہم مظاہرہ والے مقام جنتر منتر پر جا کر بیٹھیں گے اور ملک کو بتائیں گے کہ گیانیش کمار ملک کے جائز الیکشن کمشنر نہیں ہیں۔‘‘ انھوں نے بی جے پی کے سرکردہ لیڈران اور آر ایس ایس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’نریندر مودی، امت شاہ، موہن بھاگوت اور گیانیش کمار نے جمہوریت کو ختم کیا ہے۔ یہ غدارِ وطن ہیں اور ان پر ہم ایکشن لیں گے۔ گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔‘‘ ایف آئی آر سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے راہل گاندھی نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’’مجھ پر 45 ایف آئی آر ہیں، میرا ہدف ہے کہ 100 ایف آئی آر ہوں۔ ہر ایف آئی آر میرے لیے تمغہ ہے۔‘‘मुझपर 45 FIR हैं, मेरा लक्ष्य है - 100 FIR हों। हर FIR मेरे लिए मेडल है।: नेता विपक्ष श्री @RahulGandhi pic.twitter.com/pQZMAhkvJn— Congress (@INCIndia) October 7, 2026بہرحال، راہل گاندھی سبھی اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ جنتر منتر کی طرف قدم بڑھا چکے ہیں۔ جن پتھ پر پولیس کی سخت سیکورٹی کو دیکھتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انھیں درمیان میں روکا جا سکتا ہے۔ حالانکہ راہل گاندھی کی قیادت میں سبھی اراکین پارلیمنٹ جنتر منتر پر مظاہرہ کے لیے پرعزم دکھائی دے رہے ہیں۔ کانگریس نے تو سبھی سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر پہنچیں۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے راہل گاندھی کی تصویر کے ساتھ ایک گرافکس پیش کیا ہے، جس میں لکھا گیا ہے ’’مظاہرہ جاری‘‘۔ ساتھ ہی مظاہرہ کا مقام ’’جنتر منتر‘‘ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس پوسٹ کے ساتھ کیپشن لگایا گیا ہے ’’آ جاؤ سارے۔‘‘ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کانگریس صدر کھڑگے اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کو ایک بس میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس بس میں کئی دیگر اراکین پارلیمنٹ بھی سوار ہیں، جو جنتر منتر جا رہے ہیں۔Aa Jao Saare ✊ pic.twitter.com/bSS70gwgf7— Congress (@INCIndia) October 7, 2026चलो जंतर-मंतर ✊ pic.twitter.com/nu99Yo63S0— Congress (@INCIndia) October 7, 2026