اجے ماکن کی اعداد و شمار پر مبنی مہم کا چوتھا دن، دہلی میٹرو کرائے کو لے کر عام آدمی پارٹی اور بی جے پی پر نشانہ

Wait 5 sec.

کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے اپنی اعداد و شمار پر مبنی مہم کے چوتھے دن دہلی میٹرو کے کرائے کو موضوع بناتے ہوئے کانگریس، عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے ادوار کا موازنہ پیش کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو اور کیپشن میں دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت نے دہلی میٹرو کو عام لوگوں کے لیے سستا رکھا، جبکہ بعد کے برسوں میں کرائے میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔اجے ماکن نے کہا کہ 24 دسمبر 2002 کو دہلی میٹرو کا آغاز ہوا، اس وقت دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دکشت تھیں۔ ان کے مطابق اس وقت کم سے کم کرایہ 4 روپے اور زیادہ سے زیادہ 8 روپے تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور میں 2004، 2005 اور 2009 میں کرائے میں تبدیلی کی گئی لیکن ہر بار قانونی عمل اور کرایہ طے کرنے والی کمیٹی کے ذریعے فیصلہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس دور کے اختتام تک دہلی میٹرو کا کم سے کم کرایہ 8 روپے اور زیادہ سے زیادہ 30 روپے تک پہنچا لیکن اسی عرصے میں دہلی میٹرو کا نیٹ ورک 8 کلو میٹر سے بڑھ کر 190 کلو میٹر تک پہنچ گیا۔ ان کے مطابق کرایہ تقریباً 4 گنا بڑھا، جبکہ میٹرو کا نیٹ ورک تقریباً 24 گنا بڑھا۔اجے ماکن نے مزید کہا کہ 2009 سے 2017 کے درمیان 7 برس اور 6 ماہ تک دہلی میٹرو کے کرائے میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جو دہلی میٹرو کی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس مدت کا بڑا حصہ شیلا دکشت حکومت کے دور سے وابستہ تھا۔انہوں نے عام آدمی پارٹی حکومت اور مرکز کی نریندر مودی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق 2017 میں دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت اور مرکز میں بی جے پی حکومت کے دوران کم سے کم کرایہ 10 روپے اور زیادہ سے زیادہ 50 روپے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی سال 5 ماہ بعد زیادہ سے زیادہ کرایہ 60 روپے تک پہنچ گیا، جسے انہوں نے غیر معمولی اضافہ قرار دیا۔اجے ماکن نے دعویٰ کیا کہ 2017 میں 756 کروڑ روپے سالانہ کے بوجھ کو دہلی حکومت اور مرکز اگر مساوی طور پر بانٹ لیتے تو مسافروں کو اضافی کرایہ ادا نہیں کرنا پڑتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں نہ دہلی حکومت نے آمادگی دکھائی اور نہ ہی مرکز نے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کئی برس تک کرائے میں اضافہ نہیں ہوا لیکن 2025 میں دہلی میں بی جے پی حکومت آنے کے چند ماہ بعد میٹرو کا کم سے کم کرایہ 11 روپے اور زیادہ سے زیادہ 64 روپے تک پہنچ گیا۔ ان کے مطابق اس بار قانونی طریقہ کار کے بجائے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے نوٹیفکیشن کے ذریعے فیصلہ کیا گیا۔اجے ماکن نے اپنی ویڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ کانگریس دور میں دہلی میٹرو کی تعمیر، توسیع اور کرایہ پالیسی میں عام مسافروں کے مفاد کو ترجیح دی گئی، جبکہ بعد کے برسوں میں اس سمت میں تبدیلی دیکھی گئی۔اجے ماکن اس سے پہلے اپنی اعداد و شمار پر مبنی مہم کے پہلے دن دہلی کے مجموعی سرمایہ جاتی خرچ، دوسرے دن ٹرانسپورٹ سے متعلق سرمایہ کاری اور تیسرے دن دہلی میٹرو کی تعمیر، منظوری اور مالی شراکت سے متعلق اعداد و شمار پیش کر چکے ہیں۔ چوتھے دن انہوں نے دہلی میٹرو کے کرائے کو اپنی مہم کا مرکز بنایا اور ایک بار پھر مختلف حکومتوں کے کام کا موازنہ کرتے ہوئے عوام کے سامنے اعداد و شمار پیش کیے۔