کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے مودی حکومت کو خارجہ پالیسی، تجارتی معاہدوں اور امریکہ سے تعلقات کے معاملے پر سخت نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل بیان جاری کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے کئی سوالات پوچھے اور دعویٰ کیا کہ ہندوستان سے متعلق اہم بین الاقوامی فیصلوں اور اعلانات کی معلومات نئی دہلی کے بجائے سب سے پہلے واشنگٹن سے سامنے آ رہی ہیں۔جے رام رمیش نے کہا کہ 10 مئی 2025 کو امریکی وقت کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سب سے پہلے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد آپریشن سندور غیر متوقع طور پر رک گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کردار کا ذکر کیا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ 21 مئی 2026 کو بھی مارکو روبیو نے سب سے پہلے یہ اطلاع دی کہ وینزویلا کے صدر اگلے ہفتے ہندوستان کا دورہ کریں گے، جبکہ اس سے پہلے نہ تو ہندوستان اور نہ ہی وینزویلا کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ اشارہ یا تصدیق کی گئی تھی۔کانگریس رہنما نے کہا کہ اب مارکو روبیو نے ایک اور بیان دے کر حیران کیا ہے، جس میں کہا گیا کہ مودی حکومت نے آئندہ 5 برسوں کے دوران توانائی، ٹیکنالوجی اور زراعت کے شعبوں پر توجہ دیتے ہوئے امریکہ سے 500 ارب ڈالر کی خریداری کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ مالی سال 2026 تک ہندوستان کی سالانہ درآمدات 52.9 ارب ڈالر کے آس پاس ہیں، ایسے میں امریکہ سے خریداری بڑھانے کا مطلب درآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔انہوں نے وزیر اعظم مودی سے کئی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ ممالک امریکی محصولات سے متعلق فیصلوں کے بعد تجارتی معاہدوں پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں تو ہندوستان نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر نظرثانی کیوں نہیں کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے جلد بازی میں ایسے فیصلے کیے جو کسانوں اور صنعتوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔جے رام رمیش نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب حکومت عوام سے غیر ملکی زرمبادلہ بچانے اور اخراجات کم کرنے کی اپیل کرتی رہی ہے تو پھر امریکہ سے ریکارڈ سطح پر درآمدات کی سمت میں قدم کیوں بڑھائے جا رہے ہیں۔At 5:37 PM IST on May 10 2025, it was US Secretary of State Marco Rubio who first made the announcement of the cease fire that brought Operation Sindoor to an unexpected halt. He had claimed that it was intervention by President Trump that made the ceasefire possible.On May…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) May 24, 2026انہوں نے روپے کی قدر میں کمی، امریکہ سے ممکنہ درآمدات میں اضافے اور اس کے معاشی اثرات پر بھی سوال اٹھائے۔ ساتھ ہی انہوں نے امریکی انتظامیہ کے بعض فیصلوں اور صنعت کار گوتم اڈانی سے متعلق معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی حکومت سے وضاحت مانگی۔اپنے بیان کے آخر میں جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ خارجہ پالیسی سے متعلق اہم اعلانات مسلسل امریکہ سے سامنے آنا تشویش کا معاملہ ہے اور حکومت کو اس پر جواب دینا چاہیے۔