واشنگٹن (23 مئی 2026): امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کر دیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے جمعے کے روز ایک وسیع نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد امریکا میں پہلے سے موجود تارکینِ وطن کے لیے مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنا مزید مشکل بنانا ہے۔ یہ اقدام قانونی امیگریشن کو سخت حد تک محدود کرنے کی مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔اب امریکا میں مستقل رہائش کے لیے درخواست گزاروں کو عام طور پر بیرون ممالک سے ہی اپلائی کرنا ہوگا، ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گرین کارڈ کے خواہش مندوں کو درخواست دینے کے لیے امریکا چھوڑنا ہی ہوگا۔حکام کے مطابق اب بہت سے ایسے تارکینِ وطن، جو گرین کارڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں، انھیں امریکا میں رہتے ہوئے یہ عمل مکمل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کی بہ جائے زیادہ تر درخواست دہندگان کو اپنے آبائی ممالک واپس جا کر امریکی قونصل خانے کے ذریعے امیگرنٹ ویزا کے لیے درخواست دینا ہوگی۔امریکا کو غیرقانونی تارکین وطن کے حوالے نہیں کریں گے، ٹرمپنئی گائیڈ لائن میں جن نان امیگرینٹس کا ذکر کیا گیا ہے ان میں انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس، عارضی ورکرز اور سیاح شامل ہیں، جو متاثر ہوں گے، صرف انتہائی غیر معمولی صورت حال ہی میں کسی شخص کے لیے اسٹیٹس کی درخواست کو ایڈجسٹ کیا جا سکے گا۔امریکی امیگریشن حکام کے مطابق جمعے کو جاری ہونے والی اس پالیسی کے دور رس اثرات ہوں گے۔ اس کے تحت طلبہ، سیاح، عارضی ویزا رکھنے والے افراد، اور وہ لوگ جو قانونی طور پر امریکا آئے لیکن بعد میں ویزا مدت سے زیادہ قیام کرتے رہے، سب کو گرین کارڈ کی درخواست سے قبل امریکا چھوڑنا پڑ سکتا ہے، چاہے ان کی اسپانسرشپ امریکی شہری شریکِ حیات یا آجر کی جانب سے ہی کیوں نہ ہو۔بہت سے تارکینِ وطن کے لیے وطن واپسی کے بعد دوبارہ امریکا آنا مشکل یا ناممکن بھی ہو سکتا ہے۔ اس وقت افریقہ اور ایشیا کے بیش تر ممالک سمیت 39 ممالک کے شہریوں پر صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کی بنیاد پر نافذ کردہ ’ٹریول بین‘ کے تحت امریکا میں داخلے پر پابندیاں یا مکمل پابندی عائد ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ نے 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا جاری کرنے کا عمل بھی روک رکھا ہے، مؤقف یہ ہے کہ یہ افراد معاشی بوجھ بن سکتے ہیں۔مزید یہ کہ جو افراد ویزا مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر امریکا میں مقیم رہے، اگر وہ امریکا چھوڑتے ہیں تو زیادہ تر صورتوں میں ان پر دوبارہ داخلے کے لیے 10 سال کی پابندی لگ سکتی ہے۔ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں ادوار میں USCIS کے سینئر عہدیدار رہنے والے مائیکل ویلورڈے نے کہا کہ یہ اعلان ’’ہر سال لاکھوں خاندانوں اور آجرین کے منصوبوں کو متاثر کرے گا۔‘‘ ان کے مطابق ’’یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے جو امریکا میں قانونی امیگریشن کو نمایاں حد تک محدود کر دے گا۔ وہ لوگ جنھوں نے قواعد پر مکمل عمل کیا، اب شدید غیر یقینی صورت حال کا شکار ہیں۔‘‘اگرچہ اس پالیسی سے مستثنیٰ افراد کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی، تاہم میمو کے مطابق ’’ڈوئل انٹینٹ‘‘ ویزا رکھنے والے، جیسے کہ اعلیٰ مہارت کے حامل کارکنوں کے لیے H-1B ویزا ہولڈرز، نیز پناہ گزین اور اسائلم حاصل کرنے والے افراد، اب بھی امریکا کے اندر رہتے ہوئے گرین کارڈ کے لیے درخواست دے سکیں گے۔گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں واضح کیا کہ امریکا کو غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے نہیں کریں گے، امریکی شہریوں کو محفوظ بنانے کے لیے بل لانا چاہتے ہیں۔