جنگ بندی کے باوجود لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، پیرامیڈیکس اور ایک بچے سمیت 10 افراد جاں بحق

Wait 5 sec.

لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ جمعہ کے روز جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 6 پیرامیڈیکس اور ایک شامی دوشیزہ سمیت 10 افراد کی موت ہوگئی۔ اسرائیل-حزب اللہ جنگ میں امریکہ کی ثالثی سے ہوئی نازک جنگ بندی کے باوجود یہ حملے جاری ہیں۔ وزارت نے کہا کہ پہلا حملہ ہنوئیہ گاؤں میں ہوا، جس میں حزب اللہ کی اسلامک ہیلتھ ایسوسی ایشن کے 4 طبی عملے کے اہلکار جاں بحق اور ایک پیرامیڈک سمیت 2 دیگر زخمی ہوگئے۔اسرائیلی حملے کے باعث لبنان کی معیشت تباہ، ملک کو 2 بلین ڈالر کا نقصانوزارت نے بتایا کہ جمعے کی صبح ساحلی صوبے ٹائر کے گاؤں دیر قنون النہار پر ایک اور حملے میں 6 افراد کی موت ہوگئی، جن میں ایک شامی بچہ اور الرسالہ اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے 2 طبی اہلکار شامل تھے۔ الرسالہ اسکاؤٹس ایسوسی ایشن، مزاحمتی گروپ حزب اللہ کے اتحادی ’عمل تحریک‘ سے وابستہ ایک پیرا میڈیکل گروپ ہے۔ اس کے علاوہ 6 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں 3 پیرا میڈیکس اور ایک شامی خاتون شامل ہیں۔ وزارت صحت نے کہا کہ دونوں حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ جمعرات کو اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے لبنان میں صحت کے کارکنوں اور تنصیبات پر 169 تصدیق شدہ حملوں کی اطلاع دی، جس میں اسرائیل-حزب اللہ جنگ کے آغاز سے 116 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔خبر رساں اداروں نے بتایا کہ اس سلسلے میں اسرائیلی فوج نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ اس سے قبل اسرائیل نے الزام لگایا تھا کہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ پر بغیر کوئی ثبوت دیئے ایمبولینس کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے ایک دوسرے کے خلاف حملے جاری ہیں۔ اس ہفتے کے شروع میں لبنان کی وزارت صحت نے کہا تھا کہ لبنان میں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان لڑائی کے تازہ ترین دور میں ہلاکتوں کی تعداد 3,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسرائیل-حزب اللہ جنگ 2 مارچ کو شروع ہوئی تھی جب حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں راکٹ فائر کیے، جس کے دو دن بعد امریکہ اور اسرائیل نے لبنانی مزامحتی گروپ کے اہم حامی ایران پر حملے شروع کیے تھے۔جنگ بندی کے باوجود لبنان میں اسرائیل کی ایئر اسٹرائیک، گھر پر بمباری میں خاتون صحافی شہیدجمعے کو لبنانی فوج اور جنرل سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے بیانات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے افسران نظم و ضبط کے پابند، پیشہ ور اور اپنے اداروں اور قوم کے لیے پوری طرح وفادار ہیں۔ یہ بیانات امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے حزب اللہ سے منسلک قانون سازوں، ریاستی سیکورٹی اہلکاروں اور عسکریت پسند گروپ کے ساتھیوں پر پابندیاں عائد کیے جانے کے ایک دن بعد سامنے آئے ہیں، جن پر لبنانی ریاستی اداروں پر ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور تخفیف اسلحہ کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب واشنگٹن نے لبنان کے موجود ریاستی سیکورٹی اہلکاروں پر پابندی لگائی ہے۔ ان میں سے ایک جنرل سیکورٹی ڈائریکٹوریٹ سے اور دوسرا ملٹری انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ سے ہے۔ دونوں پر جاری تنازع کے دوران حزب اللہ کو غیر قانونی مدد اور خفیہ معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے۔