ریاض (23 مئی 2026): سعودی وزارتِ داخلہ نے مکہ مکرمہ میں حج سیکیورٹی فورسز کی اہم پریس کانفرنس منعقد کی، جس میں حج 1447 ہجری کے لیے سیکیورٹی، ٹریفک اور انتظامی پلان کا اعلان کیا گیا، سعودی حکومت نے حجاج کرام کی خدمت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا اعادہ بھی کیا ہے۔ڈائریکٹر پبلک سیکیورٹی ٹیم محمد بن عبداللہ البسامی نے حج سیکیورٹی پلان کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی حجاج کو مکہ اور مشاعر مقدسہ میں داخلے سے روکنے کے لیے سخت سیکیورٹی حصار قائم کر دیا گیا ہے۔سعودی حکام کے مطابق جعلی حج اشتہارات اور فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جب کہ بغیر پرمٹ حجاج کو لانے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ غیر قانونی حجاج کو منتقل کرنے والے افراد کو 6 ماہ تک قید اور 50 ہزار ریال جرمانہ ہو سکتا ہے جب کہ خلاف ورزی پر غیر ملکی ٹرانسپورٹر کو سزا کے بعد 10 سال کے لیے سعودی عرب میں داخلے پر پابندی ہوگی۔سعودی عرب میں عباسی دور کی دریافت چیزوں نے سب کو حیران کردیاسعودی حکام کے مطابق حجاج کرام کے تحفظ کے لیے جیب تراشی اور دیگر جرائم کے خلاف خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں جب کہ مشاعر مقدسہ، مسجد الحرام اور مرکزی علاقوں میں ہجوم اور ٹریفک مینجمنٹ کے لیے خصوصی پلان نافذ کر دیا گیا ہے۔سعودی اسپیشل ایمرجنسی فورسز مکمل الرٹ ہیں اور غیر مجاز افراد کو مشاعر مقدسہ تک پہنچنے سے روکنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ عرفات، جمرات اور حرم مکی کے اطراف ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے خصوصی حکمت عملی بھی تیار کی گئی ہے۔سول ڈیفنس فورسز نے مکہ، مشاعر مقدسہ اور مدینہ منورہ میں مکمل تیاری مکمل کر لی ہے جب کہ حج سیکیورٹی میں پہلی بار جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی شامل کیا گیا ہے۔ سعودی محکمہ جوازات کے مطابق اب تک 15 لاکھ 18 ہزار 153 عازمینِ حج بیرونِ ملک سے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔