’اللہ ہم مسلمانوں کے دلوں کو ایک دوسرے کے قریب لائے‘، عید الاضحیٰ کے موقع پر ایران کا اہل اسلام کو پیغام

Wait 5 sec.

آج (28 مئی) کو عیدالاضحیٰ کا تہوار منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے علاقائی ممالک کے درمیان یکجہتی اور تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایک پیغام جاری کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کی گئی ایک پوسٹ میں عراقچی نے کہا کہ ’’امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان خطے کی صورتحال انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’علاقائی استحکام کا راستہ ان امن پسند مسلم رہنماؤں کی جانب سے دکھایا جا رہا ہے جو بات چیت اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔‘‘ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ’’علاقائی ممالک کے درمیان یکجہتی اور تعاون اس وقت انتہائی اہم ہے۔ امن پسند مسلم رہنما امن قائم کرنے کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ یہ سب ایک انتہائی حساس وقت میں ہو رہا ہے۔ تاریخ اسے یاد رکھے گی۔ تمام پیارے مسلمانوں کو عید مبارک۔‘‘وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے علاوہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بھی بقرعید کے موقع پر مبارک باد پیش کی۔ عراق، عمان، قطر، ترکی، تاجکستان، مصر، کرغستان اور آذربائیجان کے رہنماؤں کے ساتھ اپنی بات چیت میں انہوں نے عیدالاضحیٰ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے امید ظاہر کی ہے کہ اللہ ہم مسلمانوں کے دلوں کو ایک دوسرے کے قریب لائے اور ہم تمام شعبوں میں تعاون کی توسیع اور خطرات کے سامنے ایک دوسرے کے ساتھ مزید مضبوطی سے کھڑے رہیں۔‘‘ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے عیدالاضحیٰ کو مسلم ممالک کے درمیان عقیدت، قربانی اور اتحاد کی ایک مضبوط علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقع اسلامی دنیا کے ممالک کو آپسی اعتماد کو مضبوط کرنے اور علاقائی تعلقات کو گہرا کرنے کی یاد دلاتا ہے۔ہندوستان میں واقع ایرانی سفارت خانے نے بھی تمام ہندوستانیوں کو عید کی مبارکباد دی۔ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں سفارت خانے نے کہا کہ ’’عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہم ہندوستانی حکومت اور یہاں کے پیارے عوام، بالخصوص اپنے عزیز مسلم بھائیوں اور بہنوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ مبارک تہوار سب کے لیے امن، خوشحالی اور خوشیاں لائے اور ہمارے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور ثقافتی دوستی کے بندھن کو مزید مضبوط کرے۔ عید مبارک۔‘‘