ریاض (28 مئی 2026): آج مناسکِ حج کا چوتھا روز ہے اور حجاج کرام مِنیٰ میں تینوں جمرات کی رمی (شیطانوں کو کنکریاں مارنے کی سنت) کر رہے ہیں۔رمی کے بعد حجاج دن کا بقیہ وقت مِنیٰ میں اپنے خیموں اور ٹاوروں میں ہی گزاریں گے۔ کل مناسک حج کے پانچویں اور آخری روز بھی حجاج کرام تینوں جمرات کی رمی کریں گے۔۔حج کے آخری روز حجاج تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنے کی سنت ادا کرنے کے بعد مغرب سے پہلے منیٰ سے نکل جائیں گے اور پھر مکہ اور مدینہ میں قیام کریں گے۔پاکستانی حجاج کرام کی وطن واپسی کا سلسلہ 31 مئی سے شروع ہوگا۔ اس سال 17 لاکھ سے زائد عازمین نے فریضہ حج ادا کیا ہے۔واضح رہے کہ حجاج کرام وقوف عرفات کے بعد منیٰ میں جمرات تینوں شیطان کی علامات کو کنکریاں مار کر سنت ابراہیمی کی پیروی کر تے ہیں۔جس وقت حضرت ابراہیم ؑ خواب کی تکمیل کے لیے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے لے جا رہے تھے تو تین مقامات پر شیطان نے انہیں بہکانے کی کوشش کی، لیکن حضرت ابراہیم ؑ نے اس کو تینوں بار کنکریاں مار کر دھتکارا تھا۔عازمین حج نے ایک ہی دن میں 2 کروڑ 13 لاکھ کالز کیں