تہران (28 مئی 2026): ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی آئل ٹینکر پر فائرنگ کر کے اسے واپس جانے پر مجبور کر دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج کا کہنا ہے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی آئل ٹینکر پر فائرنگ کر کے اسے واپس جانے پر مجبور کر دیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک امریکی آئل ٹینکر نے اپنا ریڈار بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی۔ تاہم ایران کی بحریہ نے انتباہی فائرنگ کی اور جہاز کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔دوسری جانب پاسداران انقلاب کا کہنا ہے تین جہازوں کو آبنائے ہرمزمیں داخلے سے روکا ہے۔تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی بحریہ کی آبنائے ہرمز میں کارروائی کرتے ہوئے امریکی آئل ٹینکر سمیت چار غیر ملکی جہازوں کو خلیج میں داخل ہونے روک دیا۔رپورٹ کے مطابق غیر ملکی جہاز ایرانی حکام سے رابطہ اور اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایرانی بحریہ نے پہلے جہازوں کو وارننگ جاری کی، لیکن ہدایات نظر انداز کیے جانے پر فائر کیے تو جہازوں نے اپنے رخ موڑ لیے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واقعے کہ بعد ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز کی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔دوسری جانب امریکی فوج کی جانب سے ایران میں فوجی اہداف پر نئے حملے اور تمام ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد خطے میں تعینات امریکی افواج اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا تھا۔دریں اثنا ایران میں آبنائے ہرمز کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ یہ دھماکے بندر عباس شہر کے مشرقی حصے میں سنے گئے ہیں۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق دھماکوں کے بعد فضائی دفاعی نظام کو عارضی طور بحال کر دیا گیا ہے جب کہ حکام اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔ایران کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں، صدر ٹرمپ