تہران (23 مئی 2026): ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے حتمی متن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔اسماعیل بقائی نے جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ایران امریکا معاہدے کے حتمی متن کے حوالے سے پاکستانی وفد جمعے کی شام پہنچا جبکہ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی پہلے ہی چند روز سے تہران میں تھے۔ترجمان ایرانی مذاکراتی ٹیم نے بتایا کہ ہم ایک مسودے کے قریب ہیں۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے امریکی فریق کا کوئی تعلق نہیں اس پر ایران و عمان آپس میں مل کر لائحہ عمل بنائیں گے، آبی گزرگاہ سے متعلق ہم دوسرے ممالک سے بھی گفتگو کریں گے، اس سے گزرنے والے بحری جہاز کی سکیورٹی کا ادراک ہے۔یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی، ایران نے واضح کر دیااسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے بھی زیادہ اہم امریکا کی بحری ناکہ بندی ہے، واشنگٹن بحری ناکہ بندی سے لوٹ مار کر رہا ہے ہماری تجارتی کشتیوں کو نشانہ بناتا ہے۔اپنے بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ منجمد ایرانی فنڈز کا اجرا مسودے کے متن میں شامل کیا جائے گا، ایران لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔’ہم اس مرحلے پر جوہری مسئلے کی تفصیلات پر بات نہیں کر رہے۔ ہم جانتے ہیں جوہری مسئلہ ایران کے خلاف 2 جنگوں کا بہانہ رہا ہے۔ ہمیں ایٹمی مذاکرات کے دوران دو بار جارحیت کا نشانہ بننے کا تجربہ ہے۔‘ترجمان ایرانی مذاکراتی ٹیم کے مطابق پاکستان نے ثالث کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا ہے، پاکستانی وفد کے دورے کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری رکھنا تھا۔’اس مرحلے پر ہماری توجہ مسلط کردہ جنگ کو ختم کرنے پر ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں ایران کی 14 نکاتی تجویز پر متعدد پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ تجاویز کی مختلف شقوں پر فریقین کے نقطہ نظر کا تبادلہ ہوا ہے۔ بعض نکات پر بات چیت کی گئی جس پر اختلاف رائے اب بھی برقرار ہے، کچھ نکات زیر غور ہیں اور اس پر بحث جاری ہے۔‘