’عوام کی کمائی پر قسطوں میں لوٹ مار ہو رہی‘، پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد کھڑگے کا حکومت پر حملہ

Wait 5 sec.

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ کے بعد مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے حکومت پر عوام سے ’قسطوں میں لوٹ مار‘ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ پٹرول کی قیمت 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے اور حکومت عوام پر معاشی بوجھ بڑھا رہی ہے۔पेट्रोल अब हुआ ₹100 पार, अबकी बार… जनता की कमाई पर किश्तों में लूटमार ! पेट्रोल-डीज़ल पर रोज़ाना ₹1000 करोड़ का केंद्रीय टैक्स लगाकर भाजपा का पेट नहीं भरा… अंतर्राष्ट्रीय दाम जब कम थे तब जनता को फ़ायदा नहीं पहुँचाया, उन्हें जमकर लूटा। जब Crisis आई तो, चुनाव में जुट गए,… pic.twitter.com/EjkikgGzFK— Mallikarjun Kharge (@kharge) May 23, 2026سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس صدر نے لکھا ہے کہ ’’پٹرول اب ہوا 100 روپے پار، اب کی بار… عوام کی کمائی پر قسطوں میں لوٹ مار!‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پٹرول اور ڈیزل پر روزانہ تقریباً 1000 کروڑ روپے کا مرکزی ٹیکس وصول کرنے کے باوجود بی جے پی حکومت کی ’بھوک‘ ختم نہیں ہوئی۔ جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں کم تھیں، تب حکومت نے اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچایا، عوام سے بھاری رقم وصول کی۔ پھر جب بحران آیا تو حکومت انتخابی سرگرمیوں میں مصروف رہی، اور انتخابات کے بعد عوام کو قربانی کا درس دینے لگی۔کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے 8 دنوں کے اندر 3 مرتبہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’8 دنوں میں 3 بار پٹرول-ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی گئیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ بیرون ممالک کے مقابلے ہندوستان میں قیمتیں سب سے کم ہیں۔ مغربی ایشیا میں جنگ شروع ہونے کے بعد جب مودی جی ہم ہندوستانیوں کو ’سب ٹھیک ہے‘ کی گھٹی پلا رہے تھے، تب باقی ممالک اپنی اپنی عوام کو راحت پہنچا رہے تھے۔‘‘ انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں اس کی مثال بھی پیش کی، جو اس طرح ہیں:اٹلی نے ایندھن پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی، جس سے عوام کو براہ راست راحت ملی۔آسٹریلیا نے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی، جس کے نتیجے میں شہریوں کے لیے پٹرول کی قیمت تقریباً 17 روپے فی لیٹر کم ہوگئی۔جرمنی نے تیل پر ٹیکس کم کیا، جس سے ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 17 سے 19 روپے فی لیٹر تک کمی آئی۔برطانیہ نے گھروں کو 100 پاؤنڈ کی آئل امداد فراہم کی اور ایندھن و بجلی پر عائد ٹیکسوں میں بھی کمی کی۔آئرلینڈ نے 250 ملین یورو کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا، جس کے تحت پٹرول کی قیمت میں تقریباً 0.15 یورو فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 0.20 یورو فی لیٹر تک کمی کی گئی۔ان حقائق کو پیش کرنے کے بعد ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’’مودی جی بتائیے، اس لوٹ کی قسط کس کس کو جا رہی ہے؟ آپ اتنے سمجھوتہ پسند کیوں ہیں؟‘‘ انہوں نے اپنی تنقید کو مزید سخت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس حکومت میں اصل بحران قیادت کا ہے اور اب 140 کروڑ ہندوستانی اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں۔‘‘