پیتم پورہ تنازعہ: ایم ایل اے کرنیل سنگھ کے خلاف ایف آئی آر کا مطالبہ، جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی اے سی پی سے ملاقات

Wait 5 sec.

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کے مشورے پر تنظیم کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں ایک وفد نے رانی باغ تھانے میں اے سی پی منگول پوری مراری لال سے ملاقات کی اور پیتم پورہ کے شکور بستی علاقے میں رام لیلا گراؤنڈ کے قریب پیش آئے حالیہ تنازعہ اور انہدامی کارروائی کے تعلق سے ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا۔ اس موقع پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او بھی موجود تھے۔جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے مقامی ایم ایل اے کرنیل سنگھ کے اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے دہلی پولیس سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے فوری قانونی کارروائی کی جائے۔ وفد نے اپنے مکتوب کے ساتھ ویڈیو ریکارڈنگ، میڈیا رپورٹوں اور سوشل میڈیا مواد سمیت متعدد شواہد بھی پولیس حکام کے حوالے کیے۔جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے پیش کیے گئے مکتوب میں کہا گیا کہ منہدم کیے گئے ڈھانچے یا دیوار کو مسجد یا مدرسے کا حصہ قرار دینا بے بنیاد اور گمراہ کن دعویٰ ہے۔ تنظیم کے مطابق مذکورہ دیوار یا ڈھانچہ نہ مسجد کا حصہ تھا اور نہ مدرسے کا، بلکہ اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر عوامی جذبات کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔مکتوب میں مزید کہا گیا کہ کرنیل سنگھ نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے نہ صرف دیوار گرائی بلکہ اشتعال انگیز اور نفرت آمیز بیانات بھی دیے، جنہیں مختلف ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر نشر کیا گیا۔ جمعیۃ علماء ہند کے مطابق ان بیانات اور اقدامات سے علاقے میں خوف، بے چینی اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی اور امن و امان کی صورت حال متاثر ہوئی۔وفد نے اپنے میمورنڈم میں کہا کہ کسی بھی منتخب عوامی نمائندے کی جانب سے ایسے اقدامات مستقبل میں قانون ہاتھ میں لینے کے رجحان کو فروغ دے سکتے ہیں، اس لیے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔جمعیۃ علماء ہند نے دہلی پولیس سے مطالبہ کیا کہ کرنیل سنگھ کے خلاف متعلقہ قانونی دفعات کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جائے، منہدم کیے گئے ڈھانچے کی ملکیت اور نوعیت کی غیر جانبدارانہ تحقیق کرائی جائے اور مسجد میں آنے والے نمازیوں کی حفاظت کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔مکتوب میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی بھی فرد کو، چاہے وہ کسی بھی عہدے یا سیاسی حیثیت کا حامل ہو، قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے اور تمام شہریوں کے آئینی حقوق کے ساتھ ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ مکتوب کی نقول لیفٹیننٹ گورنر دہلی اور وزیر اعلیٰ دہلی کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے بتایا کہ وہ کئی دنوں سے دہلی پولیس کمشنر اور متعلقہ ڈی سی پی سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ علاقے میں کسی بھی ممکنہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو روکا جا سکے اور قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔ وفد میں جمعیۃ علماء صوبہ دہلی اور تنظیم کے دیگر ذمہ داران بھی شامل تھے۔