تمل ناڈو کی سیاست میں پیر کو اس وقت اہم پیشرفت سامنے آئی جب آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے تین اراکین اسمبلی نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ اس سیاسی تبدیلی کو پارٹی کے جنرل سکریٹری ایڈپّاڈی کے پلانیسوامی کے لیے ایک بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے۔ مستعفی ہونے والے اراکین اسمبلی مدورنتھکم سے منتخب ایم کمارویل، دھاراپورم سے منتخب ستیہ بھاما اور پیروندورئی سے منتخب جے کمار ہیں۔ان تینوں اراکین اسمبلی نے اپنے استعفے اسمبلی اسپیکر جے سی ڈی پربھاکر کو سونپ دیے۔ استعفوں کے فوراً بعد ان رہنماؤں کی ملاقات وزیر آدھو ارجن سے ہوئی، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں تیز ہو گئیں کہ یہ تینوں جلد تملگا ویتری کزگم (ٹی وی کے) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ایم کمارویل نے بھی اشارہ دیا کہ وہ جلد پنئی یور واقع ٹی وی کے کے دفتر میں پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے۔یہ تینوں رہنما اے آئی اے ڈی ایم کے کے اس دھڑے سے وابستہ مانے جاتے ہیں جس کی قیادت سی وی شنمگم اور ایس پی ویلومنی کر رہے ہیں۔ پارٹی کو گزشتہ انتخابی شکست کے بعد اندرونی اختلافات کا سامنا ہے اور اس وقت اے آئی اے ڈی ایم کے دو بڑے گروپوں میں بٹی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک گروپ پلانیسوامی کے ساتھ ہے جبکہ دوسرا شنمگم اور ویلومنی کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ریاست کی حکمراں جماعت ٹی وی کے، جس کی قیادت وزیر اعلیٰ جوزف وجے کر رہے ہیں، اسمبلی انتخابات کے بعد اقتدار میں آئی تھی۔ پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی لیکن کانگریس، وی سی کے، آئی یو ایم ایل سمیت کئی جماعتوں کی حمایت حاصل ہونے کے بعد حکومت تشکیل دی گئی تھی۔ سی پی آئی اور سی پی آئی ایم نے بھی حکومت کو باہر سے حمایت دی تھی۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس تازہ پیشرفت سے اے آئی اے ڈی ایم کے میں مزید ٹوٹ پھوٹ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پہلے ہی تقریباً 25 اراکین اسمبلی شنمگم اور ویلومنی دھڑے کے قریب سمجھے جا رہے تھے، حالانکہ ان میں سے پانچ اراکین اسمبلی بعد میں دوبارہ پلانیسوامی کے ساتھ آ گئے۔تین استعفوں کے بعد 234 رکنی اسمبلی میں اے آئی اے ڈی ایم کے کی تعداد 47 سے کم ہو کر 44 رہ گئی ہے۔ پلانیسوامی حامی اراکین اسمبلی کی تعداد 27 بتائی جا رہی ہے جبکہ باغی دھڑے کے ارکان کی تعداد گھٹ کر 17 رہ گئی ہے۔ ادھر وزیر اعلیٰ جوزف وجے کی خالی کی گئی تروچی مشرقی نشست سمیت اب ریاست میں خالی اسمبلی نشستوں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔