سپریم کورٹ کا ونتارا کے خلاف تحقیقات دوبارہ کھولنے سے انکار

Wait 5 sec.

جنگلی حیات کے بچاؤ، بحالی اور تحفظ سے متعلق ریلائنس انڈسٹریز گروپ کے گجرات میں قائم منفرد ونتارا کمپلیکس کے خلاف معاملہ دوبارہ کھولنے کی درخواست مسترد کیے جانے کا ونتارا نے خیرمقدم کیا ہے۔ ونتارا کے سی ای او ووان کارانی نے جمعہ کو کہاکہ ’’یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا کام درست سمت میں ہے۔ ونتارا میں لایا گیا ہر جانور قانونی طریقہ کار کے تحت لایا گیا ہے، اس کی مکمل حساسیت کے ساتھ دیکھ بھال کی گئی ہے اور اسے زندگی بھر تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ ہمارے لیے تحفظ صرف دعویٰ نہیں بلکہ روزانہ نبھائی جانے والی ذمہ داری ہے۔‘‘سپریم کورٹ آف انڈیا نے ونتارا کے خلاف معاملہ دوبارہ کھولنے کے لیے دائر نئی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جن الزامات کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے، وہ پہلے ہی عدالت عظمیٰ کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تفصیلی جانچ کے دائرے میں آ چکے ہیں اور ان پر حتمی غور کیا جا چکا ہے۔جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ جن معاملات کی جانچ ایس آئی ٹی کر چکی ہے اور جن پر عدالت پہلے فیصلہ دے چکی ہے، انہیں بار بار نہیں کھولا جا سکتا۔ بنچ نے ونتارا کے خلاف تحقیقات، ضبطی یا قانونی کارروائی (پراسیکیوشن) جیسے مطالبات کو مسترد کر دیا۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ جنوبی افریقہ۔ چیک ریپلک، برازیل، وینزوئیلا، متحدہ عرب امارات، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک سے جانوروں کی منتقلی قانونی دستاویزات، ضروری اجازت ناموں اور مرکزی چڑیا گھر اتھارٹی کی منظوری کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ عدالت نے اسے غیر تجارتی نوعیت کا معاملہ قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک چڑیا گھر سے دوسرے چڑیا گھر میں جانور منتقل کیے جانے کا معاملہ ہے۔عدالت نے جام نگر میں ونتارا کے کام کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا۔ حکم میں نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار میکاؤ پرندوں کے تحفظ اور افزائش کے پروگرام کا ذکر کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ جن جانوروں کو قانونی طریقے سے لا کر محفوظ ماحول اور مناسب دیکھ بھال فراہم کی جا رہی ہے، انہیں وہاں سے ہٹانا ان کے مفاد میں نہیں ہوگا بلکہ یہ ظلم کے زمرے میں آسکتا ہے۔درخواست گزار کرنارتھم ویرم فاؤنڈیشن نے عدالت سے 9 مارچ 2026 کے حکم کو واپس لینے اور ونتارا میں بیرونِ ملک سے جانور لانے میں مبینہ قانونی خلاف ورزیوں کی دوبارہ جانچ سینٹرل بیورو انویسٹی گیشن (سی بی آئی)، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ(ای ڈی) اور دیگر اداروں سے کرانے کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے 27 مئی کے فیصلے میں اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔