قالیباف کا دورہ قطر، منجمد اثاثوں سے متعلق اہم انکشاف

Wait 5 sec.

دوحہ (27 مئی 2026): الحدث/العربیہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے دورہ قطر کے دوران منجمد ایرانی فنڈز کی واگزاری کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی۔سفارتی ذرائع کے حوالے سے عرب میڈیا نے انکشاف کیا کہ ایران نے تقریباً 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے، ذرائع نے کہا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ متوقع مفاہمتی یادداشت کے اعلان کے ساتھ ہی ان فنڈز کا نصف حصہ فوری طور پر حاصل کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔ایران چاہتا ہے کہ منجمد اثاثوں کا دوسرا نصف حصہ زیادہ سے زیادہ 60 دنوں کے اندر منتقل ہو، یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق ایرانی چیف مذاکرات کار دوحہ میں قطری حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد منگل کے روز وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔فارس نیوز ایجنسی نے قطری دارالحکومت سے ایرانی مذاکراتی وفد کی واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تہران اور دوحہ کے اعلیٰ حکام کے مابین ہونے والی بات چیت کا بنیادی محور منجمد ایرانی فنڈز کی واپسی تھا۔کیا قطر نے واقعی معاہدہ طے کرانے کے لیے ایران کو 12 ارب ڈالر پیشکش کی؟ایک باخبر ایرانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قالیباف کے دورہ قطر سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق مذکورہ ذرائع نے واضح کیا کہ قالیباف کے دورہ دوحہ کا مقصد بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنا تھا۔مختلف اندازوں کے مطابق منجمد ایرانی اثاثوں کی کل مالیت 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، اگرچہ اس حوالے سے کوئی حتمی یا متفقہ ہندسہ سامنے نہیں آیا ہے۔یہ اثاثے غیر ملکی زرِ مبادلہ کی فراہمی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے گزشتہ فروری میں ایک بریفنگ کے دوران تسلیم کیا تھا کہ واشنگٹن نے جان بوجھ کر ایران کے اندر ڈالر کی کمی پیدا کی، جس کے نتیجے میں وہاں معاشی بحران اور اندرونی احتجاجی مظاہروں نے جنم لیا۔