نئی دہلی: کانگریس لیڈر ناصر حسین نے کہا ہے کہ راہل گاندھی نے پارٹی کے مسلم لیڈروں سے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ پوری طاقت کے ساتھ مسلمانوں سے جڑے مسائل کو اٹھائیں اور کانگریس میں مسلمانوں کی شمولیت بڑھانے کے لیے زمینی سطح پر مسلسل کام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت سماجی نمائندگی اور مختلف طبقات کے مسائل کو کھل کر سامنے لانے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔ناصر حسین نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ روز اندرا بھون میں منعقدہ میٹنگ کے دوران راہل گاندھی نے مسلم کانگریس لیڈروں سے کہا کہ وہ عوام کے درمیان زیادہ سرگرمی کے ساتھ کام کریں اور ان مسائل کو بھرپور انداز میں سامنے لائیں جن کا تعلق مسلم سماج سے ہے۔ ان کے مطابق پارٹی تنظیم کو نچلی سطح تک مضبوط بنانے اور مختلف طبقات کے درمیان رابطہ بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی مسلمان کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو اس کی آواز صرف ایک اقلیتی طبقے کے نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ مسلمان شناخت کے ساتھ بلند ہونی چاہئے۔ ان کے مطابق مسائل کو اصل شناخت کے ساتھ اجاگر کرنے سے ان کی سنگینی زیادہ واضح انداز میں سامنے آتی ہے اور متعلقہ طبقے کی آواز مضبوط ہوتی ہے۔ناصر حسین نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران راہل گاندھی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کانگریس کو لفظ ’مسلم‘ کے استعمال سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں اکثر لوگ مخصوص سماج کی شناخت کے بجائے عمومی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں، جبکہ ہر طبقے کی شناخت اور اس کے مسائل کو براہ راست سامنے لانا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میٹنگ میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ اگر دلت، او بی سی یا کسی دوسرے سماجی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے مسائل سامنے آتے ہیں تو انہیں ان کی سماجی شناخت کے تناظر میں بھی اٹھایا جانا چاہئے۔ ان کے مطابق اس طرز عمل سے سماجی انصاف اور نمائندگی سے متعلق مباحث کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔ناصر حسین نے کہا کہ کانگریس پارٹی مسلمانوں سمیت ہر طبقے کے حقوق اور انصاف کے سوال پر آواز اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں پارٹی کارکن ناانصافی کے خلاف متحد ہو کر کام کر رہے ہیں اور مختلف سماجی طبقات کے مسائل کو مؤثر انداز میں سامنے لانے کی کوشش جاری ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے بعض حلقے اس بیان کو کانگریس کی نئی سیاسی حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں، جس میں مختلف طبقات کے مسائل کو ان کی اصل شناخت کے ساتھ زیادہ نمایاں انداز میں اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔