بنگلورو میں سائبر ٹھگی کا ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ 74 سالہ ریٹائڑد خاتون ٹیچر کو کئی ماہ تک ڈیجیٹل اریسٹ میں رکھ کر سائبر مجرمین نے 24 کروڑ روپے کی ٹھگی کی۔ واقعہ کا انکشاف تب ہوا جب بینک کے برانچ مینیجر نے خاتون کے کھاتے کی مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی۔ معاملے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مختلف ریاستوں سے 6 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔Retired Bengaluru teacher loses Rs 24 crore in ‘digital arrest’, bank manager’s tip helps net 6 cyber criminalshttps://t.co/GHB3Sv8VzQ— The Indian Express (@IndianExpress) May 25, 2026پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں تمل ناڈو کے ایروڈ کے رہنے والے این شیو گیانم، مہاراشٹر کے اکاچ ملک، گجرات کے احمدآباد کے رہنے والے پلک بھائی پٹیل اور امت نریندر پٹیل، نئی دہلی کے رہنے والے اوم پرکاش راجپوت اور بہار کے رہنے والے گورو کمار شامل ہیں۔ متاثرہ لکشمی رام مورتی شیواجی نگر علاقے میں اکیلے رہتی ہیں۔ ان کے بچے بیرون ملک رہتے ہیں اور وہ پہلے دبئی میں ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے خود کو سی بی آئی اور ای ڈی کا افسر بتا کر خاتون کو ڈرایا۔ ٹھگوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک بڑے منی لانڈرنگ معاملے میں پھنسی ہوئی ہیں اور انہیں مسلسل نگرانی میں رکھا گیا ہے۔قانونی کارروائی اور گرفتاری کے خوف سے خاتون ذہنی دباؤ میں آ گئی۔ 10 فروری سے 24 اپریل کے درمیان انہوں نے مختلف مرحلوں میں تقریباً 24 کروڑ روپے ملزمان کے ذریعہ بتائے گئے کھاتوں میں ٹرانسفر کر دیے۔ اس کے بعد بھی ٹھگوں نے خاتون سے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا۔ پولیس کے مطابق پیسے اکٹھے کرنے کے لیے وہ اپنے گھر میں رکھے تقریباً 1.3 کلوگرام سونے کے زیورات گروی رکھنے بینک پہنچی۔ مسلسل بڑے ٹرانزیکشن اور خاتون کی گھبراہٹ کو دیکھ کر مینیجر کو شک ہوا اور اس نے فوراً پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس موقع پر پہنچی، لیکن شروعات میں خاتون اس قدر ڈری ہوئی تھی کہ کچھ بھی بتانے کو تیار نہیں تھی۔ بعد میں سمجھانے پر اس نے پورے واقعہ کو تفصیل سے بتایا۔دہلی کے شاہدرہ میں سائبر ٹھگی کرنے والے بڑے گینگ کا پردہ فاش، 14 گرفتارتحقیقات میں سامنے آیا کہ خاتون نے 10 الگ الگ بینکوں سے منسلک 23 کھاتوں میں 26 بار میں پیسے ٹرانسفر کیے تھے۔ سائبر مجرمان نے یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ خاتون نے حال ہی میں ایک پلاٹ فروخت کیا تھا اور ان کے پاس بڑی رقم موجود تھی۔ پولیس نے اب تک مختلف بینک کھاتوں کے ساتھ ساتھ 4 کروڑ روپے سے زائد کی رقم کو فریز کر دیا ہے اور تقریباً 1.46 کروڑ روپے کی ریکوری کی ہے۔ معاملے کی تحقیقات ابھی جاری ہے۔