گزشتہ روز پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں اضافہ اور آج پی این جی کی قیمت میں اضافہ نے عوام نہ صرف عوام کی جیب پر بوجھ ڈال دیا ہے، بلکہ مہنگائی کے آثار کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اس معاملے میں کانگریس مستقل مودی حکومت کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے اور عوام مخالف پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ایک تازہ سوشل میڈیا پوسٹ میں بھی وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انھوں نے کچھ حقائق سامنے رکھے ہیں اور کہا ہے کہ ’’ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، پڑھے لکھے کو فارسی کیا!‘‘“हाथ कंगन को आरसी क्या,पढ़े-लिखे को फ़ारसी क्या!”PIB के अधिकृत बयान के अनुसार, आज से ठीक बारह साल पहले 26 मई 2014 को जब प्रधानमंत्री नरेन्द्र मोदी ने सत्ता संभाली थी, उस दिन भारतीय basket का कच्चा तेल $108.05 प्रति बैरल था और डॉलर-रुपया exchange rate 58.59 रुपए थी। उस समय… pic.twitter.com/HzqJZhY0wW— Mallikarjun Kharge (@kharge) May 26, 2026ملکارجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ ’’پی آئی بی کے آفیشیل بیان کے مطابق آج سے ٹھیک 12 سال قبل 26 مئی 2014 کو، جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا تھا، اس دن ہندوستانی باسکیٹ کا خام تیل 108.05 ڈالر فی بیرل تھا اور ڈالر-روپیہ ایکسچینج ریٹ 58.59 روپے تھی۔ اس وقت پٹرول 71.51 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 56.71 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہی تھی۔‘‘ اس کے بعد تازہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’آج خام تیل کی قیمت 99 ڈالر فی بیرل سے کم ہے، لیکن پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھ کر بالترتیب 102.12 روپے فی لیٹر اور 95.20 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ یعنی خام تیل سستا ہوا، لیکن پٹرول تقریباً 42.8 فیصد اور ڈیزل تقریباً 67.9 فیصد مہنگا ہو گیا۔‘‘’مہنگائی مین کی وصولی تھم نہیں رہی‘، پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ کے بعد کانگریس کا پی ایم مودی پر حملہپرانی اور نئی قیمتوں کا موازنہ کرنے کے بعد کانگریس صدر نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہر ماہر معیشت جانتا ہے، پٹرول-ڈیزل کی مہنگائی کا اثر ہر شعبہ پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن سے لے کر خوردنی اشیا تک، عام آدمی پر مہنگائی کی مار بڑھتی ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی منافع خوری جاری ہے۔‘‘ وہ یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ جب خام تیل سستا ہوا ہے تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ کیوں گئی ہیں؟ مودی حکومت سے وہ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ آخر عوام کو راحت کیوں نہیں دی جا رہی؟