کیا قطر نے واقعی معاہدہ طے کرانے کے لیے ایران کو 12 ارب ڈالر پیشکش کی؟

Wait 5 sec.

دوحہ (26 مئی 2026): قطر کا کہنا ہے کہ ایران کو معاہدے کے بدلے رقم کی ’’پیشکش‘‘ کی خبروں کا مقصد مذاکرات کو ’’سبوتاژ‘‘ کرنا ہے۔قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ایران کو جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے لیے رقم کی پیش کش کیے جانے سے متعلق افواہیں ایسے عناصر پھیلا رہے ہیں جو ’’معاہدے کو ناکام بنانا‘‘ اور ’’خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانا‘‘ چاہتے ہیں۔ماجد الانصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا ’’وہ رپورٹس جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ قطر نے معاہدہ طے کرانے کے لیے ایران کو 12 ارب ڈالر کی ’’پیش کش‘‘ کی، بالکل بھی سچ نہیں ہے۔‘‘امریکی فوج نے جنوبی ایران پر فضائی حملہ کر دیا، سینٹکام کی تصدیقانھوں نے لکھا ’’یہ افواہیں ایسے عناصر پھیلا رہے ہیں جو معاہدے کو سبوتاژ کرنا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔‘‘The reports suggesting Qatar “offered” $12 billion to Iran to secure a deal are simply not true & are being circulated by parties attempting to sabotage the deal & undermine ongoing diplomatic efforts toward regional de-escalation & stability.Qatar’s diplomatic role, in…— د. ماجد محمد الأنصاري Dr. Majed Al Ansari (@majedalansari) May 25, 2026ماجد الانصاری نے مزید لکھا ’’قطر کا سفارتی کردار، جو علاقائی شراکت داروں کے ساتھ رابطے اور تعاون کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے، نہ صرف واضح اور تسلیم شدہ ہے بلکہ اس کا عوامی ریکارڈ بھی موجود ہے۔ ایسی کہانیاں دراصل قطر کی ایک قابلِ اعتماد بین الاقوامی امن ثالث کے طور پر ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش ہیں۔‘‘واضح رہے کہ ایران کی مذاکرتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی قطر کا دورہ کر رہے ہیں، ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم نے بتایا قالیباف اور عراقچی امیر قطر سے ملاقات کریں گے، قطری قیادت کو آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے کنٹرول کے سلسلے میں اعتماد میں لیا جائے گا، ایران کے یورینیم کے ذخائر اور قطر میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی پر بھی گفتگو ہوگی۔