دہلی ہائی کورٹ نے پرائیویٹ اسکولوں کی فیس میں اضافے کو لے کر بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ دہلی میں غیر سرکاری امداد یافتہ پرائیویٹ اسکول نئے تعلیمی سال کے آغاز میں فیس بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ڈی او ای) کی منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے فیصلے میں ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر کوئی اسکول نئے تعلیمی سال کے آغاز میں فیس میں اضافہ کرتا ہے تو اسے صرف ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو مطلع کرنا ہوگا، انہیں اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ حالانکہ اگر کوئی اسکول تعلیمی سیشن کے درمیان میں فیس بڑھانا چاہتے ہیں تو ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی منظوری ضروری ہوگی۔دہلی کے نجی اسکولوں کی فیس میں اضافے پر محکمہ تعلیم سختعدالت نے سرپرستوں کو راحت دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اسکول پچھلے سالوں کی بڑھی فیس کا بقایا اب نہیں لے سکتے۔ یعنی 17-2016 یا اس سے پہلے کے سیشن کی بڑھی ہوئی فیس اب سرپرستوں سے نہیں مانگی جاسکتی۔ آخری مجوزہ فیس میں اضافہ اب اپریل 2027 سے ہی نافذ العمل ہوگا۔ عدالت نے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی جانب سے جاری ان تمام احکامات کو کالعدم قرار دے دیا جن میں تعلیمی سال کے آغاز میں فیس میں اضافے کی تجاویز کو خارج کردیا گیا تھا۔ عدالت نے محکمہ تعلیم کے پاس زیر التواء فیس میں اضافے کی تجاویز کو بھی بند کر دیا۔عدالت نے محکمہ تعلیم کے اس فرق کو بھی خارج کر دیا جو’’ لینڈ کلاز‘‘ (زمین سے متعلق شرط) کے تحت آنے والے اسکولوں اور ایسے کلاز کے تحت نہ آنے والے اسکولوں کے درمیان کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ لینڈ کلاز، جو عام طور پر الاٹمنٹ لیٹر میں ایک شرط ہوتی ہے، اسے ایکٹ اور قواعد کے دائرے میں ہی کام کرنا چاہیے اور یہ محکمہ تعلیم کے قانونی اختیارات سے تجاوز نہیں کر سکتا۔دہلی: اسکول کی فیس ادا نہ کرنے والے 40 طلبا کا نام کاٹے جانے سے سرپرست حیران، نئے اصولوں پر اٹھنے لگا سوالدہلی ہائی کورٹ نے یہ حکم کئی پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جاری کیا۔ ان اسکولوں نے اپنی فیس میں اضافے کی تجاویز کو مسترد کرنے کے محکمہ تعلیم کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ اسکولوں کا استدلال تھا کہ محکمہ تعلیم بار بار ان کی فیس میں اضافے کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے، جس سے ان کی مالی آزادی متاثر ہورہی ہے۔