چین میں کوئلے کی کان میں دھماکا، 90 افراد ہلاک

Wait 5 sec.

بیجنگ(23 مئی 2026): چین کے شمالی صوبے شانزی میں کوئلے کی کان میں گیس دھماکے سے 90 مزدور ہلاک ہوگئے۔چینی سرکاری ٹی وی ‘سی سی ٹی وی’ کے مطابق شمالی چین میں واقع کوئلے کی ایک کان میں گیس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 90 کان کن ہلاک ہو گئے ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں ملک کا سب سے مہلک ترین مائننگ حادثہ ہے۔رپورٹ کے مطابق صوبہ شانسی کی اس کان میں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور ہلاکتوں کی حتمی تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے، جبکہ اب بھی 9 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔چین کی سرکاری خبر رساں ادارے ‘شینہوا’ کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے ہمہ وقت ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے قانون کے مطابق ذمہ داران کا تعین کرنے کا حکم دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ دھماکہ چانگ ژی شہر میں واقع ‘لیوشینیو’ کوئلہ کان کے اندر کاربن مونو آکسائیڈ گیس کی سطح حد سے زیادہ بڑھنے کے باعث پیش آیا۔مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ بیورو نے تصدیق کی ہے کہ 400 سے 500 افراد پر مشتمل امدادی ٹیمیں زمین کے نیچے ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں اور صوبائی سطح کے اعلیٰ حکام بھی موقع پر پہنچ چکے ہیں۔ دوسری جانب مائننگ کمپنی کے نمائندے نے اس صورتحال پر لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ چین میں حالیہ برسوں کے دوران دیگر ذرائع پر منتقل ہونے کی کوششوں کے باوجود کوئلہ توانائی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، اور صوبہ شانسی ملک کا سب سے بڑا کوئلہ پیدا کرنے والا علاقہ ہے جو ملک کی کل پیداوار کے چوتھائی سے زیادہ حصے پر مشتمل ہے۔چین میں مائننگ انڈسٹری کا سیفٹی ریکارڈ ماضی میں کافی خراب رہا ہے اور یہاں متعدد ہلاکت خیز حادثات پیش آ چکے ہیں۔ اگرچہ 2000 کی دہائی کے بعد سے حفاظتی انتظامات میں بہتری آئی ہے۔لیکن حکومتی سختی کے باوجود ایسے واقعات کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔ اس سے قبل 2023 میں بھی اندرونی منگولیا میں ایک کان بیٹھنے سے 53 مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔حکام کے مطابق یہ دھماکا مقامی وقت کے مطابق جمعے کی شام ساڑھے 7 بجے اس وقت ہوا جب 247 مزدور زمین کے نیچے کام کر رہے تھے۔ شینہوا نیوز کے مطابق ہفتے کی صبح 6 بجے تک کم از کم 201 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا، جبکہ دھماکے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔