’حکومت عوام کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کرے‘، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر اشوک گہلوت کا ردعمل

Wait 5 sec.

گزشتہ چند دنوں سے ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس رہنما اشوک گہلوت کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اشوک گہلوت اپنی پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’اپوزیشن کیا مطالبہ کر رہی ہے؟ راہل گاندھی کیا مطالبہ کر رہے ہیں؟ آپ عوام کو بتائیں کہ صورتحال یہ ہے، ہماری مجبوری ہے، بین الاقوامی حالات کی وجہ سے یہ مجبوری بنی ہے اور آنے والے وقت میں ہمیں یہ اقدامات کرنے پڑ سکتے ہیں۔‘‘देश- प्रदेश में पेट्रोल - डीजल और सीएनजी के बढ़ते दामों एवं ख़राब होती स्थिति पर मीडिया को आज प्रतिक्रिया दी : विपक्ष मांग क्या कर रहा है? राहुल जी क्या मांग कर रहे हैं? आप देशवासियों को बताओ कि स्थिति यह है, हमारी मजबूरी है, अंतरराष्ट्रीय स्थिति बन गई उसके कारण मजबूरी है और… pic.twitter.com/RtW4lz3pZJ— Ashok Gehlot (@ashokgehlot51) May 26, 2026اشوک گہلوت نے کہا کہ حکومت عوام کو حقیقی صورتحال بتانے کے بجائے ’تماشا‘ کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل کے بعد بی جے پی لیڈران اور وزرائے اعلیٰ رکشہ میں سفر کرنے، پیدل چلنے یا الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال کرنے جیسے علامتی اقدامات دکھا رہے ہیں، لیکن اس سے عام لوگوں کو کوئی راحت نہیں مل رہی۔  ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی حالات کی وجہ سے ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو مرکزی حکومت کو صاف طور پر ملک کے سامنے حقیقی صورتحال پیش کرنی چاہیے۔سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے دعویٰ کیا کہ راجستھان کے کئی علاقوں میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے اور پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوٹہ، جے پور، جودھ پور اور بھرت پور جیسے شہروں کے درمیان سفر کرنے والے لوگوں کو راستے میں کئی بار کم مقدار میں ایندھن بھروانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے مسلسل بحران سے انکار کر رہی ہے۔’دیش کنگال ہے، یہ کیسا امرت کال ہے‘، کانگریس نے ملک کی بد سے بدتر ہوتی معاشی حالت پر تشویش کا کیا اظہارراجستھان بی جے پی صدر مدن راٹھور اور وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اشوک گہلوت نے کہا کہ دیہی علاقوں میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت کی شکایتیں سامنے آ رہی ہیں، لیکن حکومت صورتحال واضح نہیں کر رہی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کو بھی صارفین کے غصے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اشوک گہلوت کے علاوہ راجستھان اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد ٹیکارام جولی نے بھی پٹرول اور ڈیزل پر ویٹ کو لے کر ریاستی حکومت کو گھیرا۔ جولی نے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کے 2021 کے پرانے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے بی جے پی ویٹ کم کرنے کا مطالبہ کرتی تھی، لیکن اب اقتدار میں آنے کے بعد راجستھان میں ایندھن کی قیمتیں ملک میں سب سے زیادہ ہیں۔ جولی نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے قیمتیں بڑھائے جانے کے بعد ریاستی حکومت کی ویٹ سے ہونے والی آمدنی بھی بڑھی ہے، اس لیے عوام کو راحت دینے کے لیے ویٹ کم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اضافی ریونیو ملنے کے باوجود حکومت عام لوگوں کو راحت دینے میں ناکام رہی ہے۔