نئی دہلی: کانگریس نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو آخر کیوں بار بار ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور سفارتی معاملات سے متعلق معلومات پہلے عوام کے سامنے لا رہے ہیں۔ پارٹی جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اس معاملے کو ہندوستانی خودمختاری سے جوڑتے ہوئے حکومت سے وضاحت مانگی ہے۔جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مارکو روبیو نے ایک مرتبہ پھر ہندوستان سے متعلق ایک اہم سفارتی پیش رفت کا اعلان ہندوستان یا متعلقہ ملک کی سرکاری تصدیق سے پہلے کر دیا۔ ان کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے آئندہ ہفتے وینیزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کے مجوزہ دورۂ ہندوستان کا ذکر کیا، جبکہ اس بارے میں نہ ہندوستان کی طرف سے کوئی اعلان کیا گیا تھا اور نہ ہی وینیزویلا کی جانب سے۔کانگریس رہنما نے یاد دلایا کہ 10 مئی 2025 کو بھی مارکو روبیو نے سب سے پہلے "آپریشن سندھور" روکے جانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رجحان تشویش پیدا کرتا ہے کہ ہندوستان سے جڑے اہم سفارتی معاملات کی معلومات پہلے امریکہ کی جانب سے سامنے آ رہی ہیں۔جے رام رمیش نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ امریکی وزیر خارجہ کے پاس ہندوستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق اور کون کون سی معلومات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات ملک کی خودمختاری اور سفارتی عمل کے حوالے سے سوال پیدا کرتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق وینیزویلا کی قائم مقام صدر کو نئی دہلی میں انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس سے متعلق ایک پروگرام میں شرکت کرنی تھی، تاہم افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب اس پروگرام کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ادھر مارکو روبیو جلد ہی ہندوستان کے دورے پر آنے والے ہیں، جہاں وہ کواڈ ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں بھی شریک ہوں گے۔ انہوں نے حالیہ بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ ہندوستان کو اس کی ضرورت کے مطابق توانائی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔کانگریس پہلے بھی امریکی حکام کی جانب سے ہندوستانی خارجہ امور پر پیشگی اعلانات پر اعتراض اٹھا چکی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر بیرونی ممالک ہندوستان سے متعلق حساس سفارتی معاملات کی معلومات پہلے جاری کریں تو یہ معاملہ سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔