غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا ارکان کے اسرائیلی فورسز کے مبینہ تشدد کے باعث جسموں پر نیل پڑ گئے ہیں۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق غزہ جانے کی کوشش کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے ارکان کے استنبول پہنچنے والے کارکنان میں سے بیشتر کی حالت انتہائی خراب ہے۔اسرائیلی فورسز کے بہیمانہ تشدد کے باعث فلوٹیلا ارکان نے جسم پر تشدد کے نشانات واضح طور پر دکھائے ہیں جنہیں وہیل چیئرز پر لیا گیا کئی افراد کو علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا ہے۔فلوٹیلا کارکن جولیٹ لامونٹ کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں جبکہ خواتین کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے واقعات بھی ہوئے اس کے علاوہ ارکان کو انجکشن بھی لگائے گئے۔یہ پڑھیں: سعد ایدھی سمیت گلوبل صمود فلوٹیلا کے 430 رضاکار رہا ہوگئےاطالوی صحافی الیساندرو مانتووانی نے اسرائیلی حراستی مرکز کو خوف اور دہشت کی جگہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حراست میں لیتے ہی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور محدود خوراک اور پانی دیا گیا۔منتظمین کے مطابق فلوٹیلا کے 15 ارکان کے ساتھ زیادتی سمیت جنسی بدسلوکی کے واقعات پیش آئے، متعدد افراد کو ربڑ کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جبکہ کئی ارکان کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔واضح رہے کہ بحری قافلے میں پاکستان کے سعد ایدھی سمیت 400 سے زائد اراکین کو اسرائیلی فورسز نے غیر قانونی حراست میں لیا تھا، جنہیں گزشتہ روز ترکیے ڈی پورٹ کیا گیا۔