لبنان سے متعلق تازہ ترین خبریں: مہلک اسرائیلی حملوں میں 31 شہری جاں بحق

Wait 5 sec.

بیروت (27 مئی 2026): جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر حملے تیز کر دیے ہیں، اور ایران جنگ کے 89 ویں دن پر جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 31 افراد جاں بحق ہو گئے۔گزشتہ ایک روز کے دوران جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم اکتیس افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہو گئے ہیں، لبنانی وزارت صحت کا کہنا ہے جاں بحق افراد میں 4 بچے اور 3 خواتین بھی شامل ہیں۔الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے حملوں میں شدت لاتے ہوئے ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں کے قصبوں اور دیہات کے لیے درجنوں جبری انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں۔ حملوں میں اضافے کے باعث جنوبی لبنان میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور رہائشی نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں، جب کہ اطلاعات ہیں کہ اسرائیلی زمینی افواج لبنانی علاقے میں مزید اندر تک پیش قدمی کر رہی ہیں۔نبطیہ میں متعدد مقامات پر دھماکوں کے بعد دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے، اسرائیلی فوج نے 50 سے زائد قصبے اور دیہات خالی کرنے کی وارننگ جاری کی ہے، اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ فوج جنوبی لبنان میں بڑی زمینی کارروائی کرتے ہوئے اسٹریٹجک علاقوں کا کنٹرول حاصل کر رہی ہے۔دبین اور شبعا پر اسرائیلی فضائی حملےلبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان میں کئی نئے حملے کیے گئے جن میں دبین اور شبعا کے قصبے نشانہ بنے۔ ایجنسی نے یہ بھی بتایا کہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر ایک ڈرون پرواز کرتا دیکھا گیا، جہاں حزب اللہ کا خاصا اثر و رسوخ موجود ہے۔جنگ کے خاتمے کے لیے ایران ایک باوقار فریم ورک کے حصول کے لیے تیار ہے، مسعود پزشکیان2 مارچ کو دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے لبنان بھر میں تقریباً 16 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جب کہ ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق منگل تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 3,213 افراد جاں بحق اور 9,737 زخمی ہو چکے ہیں۔نبطیہ کے لیے جبری انخلا کا حکم جاریاسرائیل نے جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے رہائشیوں کے لیے ایک نیا جبری انخلا کا انتباہ جاری کیا ہے۔ ایکس پر ایک بیان میں اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان نے رہائشیوں سے کہا ’’فوری طور پر اپنے گھروں کو خالی کریں اور دریائے زہرانی کے شمال کی جانب منتقل ہو جائیں۔‘‘اگرچہ لبنان میں اس وقت ’’جنگ بندی‘‘ نافذ ہے، تاہم اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں بدستور شدت اختیار کر رہی ہیں، جب کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے لاکھوں رہائشیوں کو زبردستی بے دخل کر رہا ہے۔اسرائیلی فوجی اب اسرائیل کی مقرر کردہ ’’پیلی لائن‘‘ سے آگے بڑھتے ہوئے زمینی کارروائی کو وسعت دے رہے ہیں اور جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو دریائے زہرانی سے بھی شمال کی جانب بے دخل کیا جا رہا ہے، جو اسرائیل کے قائم کردہ سرحدی ’’سیکیورٹی بفر زون‘‘ سے کہیں زیادہ شمال میں واقع ہے۔دریائے لیطانی کے شمال میں حزب اللہ کی اسرائیلی فوج سے جھڑپیںلبنانی گروپ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے دریائے لیطانی کے شمال میں واقع ایک قصبے میں اسرائیلی افواج کے ساتھ لڑائی کی۔ ایک بیان میں مسلح گروپ نے کہا کہ جنگجوؤں نے دشمن افواج کے بہت قریب جا کر حملے کیے۔ یہ جھڑپیں زوطر الشرقیہ قصبے میں ہوئیں۔یہ قصبہ جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے مقرر کردہ پیلی لائن کے کنارے واقع ہے، جہاں اسرائیلی فوج داخل ہو چکی ہے۔جنوبی لبنان میں انسانی بحران مزید سنگینگزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے لبنانی قصبوں اور دیہات کے لیے تقریباً 50 جبری انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں، جب کہ پورے شہر نبطیہ کے لیے بھی مکمل انخلا کا حکم دیا گیا ہے۔حالیہ حملوں کے ساتھ مل کر یہ صورت حال ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دے رہی ہے جو مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے، اور لبنانی حکومت پر اس تنازع کو جلد ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دیتا رہے گا۔