تلنگانہ حکومت کے اہم فیصلے، جونیئر کالجوں میں ملے گا مڈ ڈے میل، 2.5 لاکھ نئے مکانات کو بھی منظوری

Wait 5 sec.

تلنگانہ میں کانگریس کی قیادت والی ریاستی حکومت نے طلباء اور غریب خاندانوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی کابینہ نے تمام جونیئر کالجوں میں 11ویں اور 12ویں جماعت کے طلباء کے لیے مڈ ڈے میل اسکیم شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’اندی رما‘ ہاؤسنگ اسکیم کے دوسرے مرحلے میں 2.5 لاکھ نئے گھر بنانے کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں سے غریب اور متوسط ​​طبقے کے لوگوں کو براہ راست فائدہ ملے گا۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی صدارت میں ہوئی کابینہ میٹنگ میں کئی اہم اسکیموں کو منظوری دی گئی۔ حکومت اب تعلیم، روزگار، رہائش اور انفراسٹرکچر کو ایک ساتھ مضبوط کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔’کسانوں کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن گزشتہ بی آر ایس حکومت نے قرض کا بوجھ ڈال رکھا ہے‘، ریونت ریڈی کا چھلکا دردSTORY | Telangana Cabinet approves mid-day meal scheme in junior collegesThe Telangana Cabinet has decided to introduce the mid-day meal scheme for students in all junior colleges (11th and 12th standard) in the state and to sanction 2.50 lakh houses under the second phase of… pic.twitter.com/IuT6v1bDGV— Press Trust of India (@PTI_News) May 24, 2026کابینہ میٹنگ کے بعد اطلاعات اور رابطہ عامہ کے وزیر سرینواس نے بتایا کہ ریاست کے تمام جونیئر کالجوں میں مڈ ڈے میل اسکیم نافذ کی جائے گی۔ اس کا فائدہ 11ویں اور 12ویں کلاس میں پڑھنے والے طلباء کو ملے گا۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس سے غریب خاندانوں کے بچوں کی پڑھائی نہیں چھوٹے گی اور اسکولوں میں حاضری میں اضافہ ہوگا۔ ابھی تک یہ اسکیم بنیادی طور پر اسکول کی سطح تک محدود تھی لیکن اب اسے جونیئر کالجوں تک بڑھا دیا گیا ہے۔ حکومت کی توجہ خاص طور پر ان طلباء پر ہے جو مالی تنگی کی وجہ سے درمیان میں ہی پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں۔ اس فیصلے کو تعلیم کے شعبے میں ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔تلنگانہ کی کانگریس حکومت کا اہم فیصلہ، 2 سے زائد بچے والے بھی لڑ سکیں گے پنچایتی انتخابات، اسمبلی میں بل منظورکابینہ نے ’اندی رما‘ ہاؤسنگ اسکیم کے دوسرے مرحلے میں 2.5 لاکھ مکانات کو منظوری دی ہے۔ حکومت پہلے مرحلے میں تقریباً 22,500 کروڑ روپے کی لاگت سے 4.5 لاکھ گھروں کی منظوری دے چکی ہے۔ اب ہر اسمبلی حلقہ میں 2000 نئے مکانات کی منظورکئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ گریٹر حیدرآباد ریجن کے 24 اسمبلی حلقوں میں لوور انکم گروپ (ایل آئی جی) کے زمرے کے لیے 1 لاکھ مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے غریب خاندانوں کو پختہ مکان مل سکیں گے اور شہروں میں رہنے والے کم آمدنی والے طبقے کے لوگوں کو راحت ملے گی۔