(24 مئی 2026): سعودی ریلوے نے حج 1447 ہجری کے موقع پر حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے کے لیے خصوصی آپریشنل پلان جاری کر دیا ہے۔ حج سیزن کے دوران حرمین ٹرین میں 22 لاکھ سے زائد نشستیں فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے، جب کہ رش کے اوقات میں 140 سے زائد یومیہ ٹرپس چلائی جا رہی ہیں۔سعودی ریلوے کے مطابق حج آپریشن پلان کے آغاز سے اب تک 8 لاکھ سے زائد مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے دنیا کی تیز ترین الیکٹرک ٹرینوں میں شامل ہے، جس کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچتی ہے۔ 453 کلومیٹر طویل ریلوے لائن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو آپس میں ملاتی ہے۔حرمین ٹرین مکہ، جدہ، کنگ عبدالعزیز ایئرپورٹ، کنگ عبداللہ اکنامک سٹی اور مدینہ اسٹیشنز کو آپس میں جوڑتی ہے۔ مکہ سے مدینہ کا سفر صرف 2 گھنٹے 15 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، جب کہ مکہ سے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا سفر تقریباً 50 منٹ میں طے کیا جا رہا ہے۔ مدینہ سے کنگ عبدالعزیز ایئرپورٹ تک سفر کا دورانیہ ایک گھنٹہ 45 منٹ مقرر کیا گیا ہے۔عازمینِ حج کیلیے کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں؟کنگ عبدالعزیز ایئرپورٹ اسٹیشن حج سیزن میں اہم رابطہ مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں جہاز سے ٹرین تک براہِ راست رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔ ایئرپورٹ سے منسلک حرمین ریلوے اسٹیشن دنیا کے بڑے ریلوے اسٹیشنز میں شمار ہوتا ہے، جب کہ حرمین ٹرین اسٹیشن ٹرمینل ون سے منسلک ہونے کے باعث فضائی اور ریل سفر میں بہترین ہم آہنگی قائم کی گئی ہے۔سعودی ریلوے نے حج سیزن کے لیے تمام اسٹیشنز اور کنٹرول سینٹرز میں ہائی الرٹ نافذ کر رکھا ہے۔ حرمین ریلوے اسٹیشنز پر ہجوم کے بہتر انتظام اور مسافروں کی سہولت کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جب کہ سعودی ریلوے کی آپریشنل اور فیلڈ ٹیمیں چوبیس گھنٹے خدمات انجام دینے میں مصروف ہیں۔