معاہدے کے تحت ایران کو آزادانہ طور پر تیل فروخت کی اجازت دی جائے گی، ایگزیوس

Wait 5 sec.

واشنگٹن(24 مئی 2026): امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ‘ایگزیوس’ کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کے تحت خطے میں جنگ بندی کی مدت میں 60 دن کی توسیع کی جائے گی، اور اس دوران امریکی افواج خطے میں موجود رہیں گی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے دوران اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے بحری ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق معاہدے کے تحت ایران پر عائد معاشی پابندیوں میں نرمی متوقع ہے، جس کے بعد اسے آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت ہوگی اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی ختم کر دی جائے گی۔اس کے بدلے میں ایران نے یورینیم کی افزودگی کو محدود کرنے سے متعلق زبانی یقین دہانیاں کرائی ہیں اور کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عزم دہرایا ہے۔ اس معاہدے کے مسودے میں لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کا ذکر بھی شامل کیا گیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق اس تاریخی پیشرفت میں پاکستان نے بطور ثالث بنیادی اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی ان ثالثی کوششوں کی قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں، اور ان کا حالیہ جمعہ اور ہفتے کا دورہِ ایران بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔