مرکزی حکومت نے اتوار (25 مئی) کو اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ جو لوگ اس وقت کانگو، یوگانڈا اور جنوبی سوڈان میں رہ رہے ہیں یا وہاں کا سفر کر رہے ہیں، وہ وہاں کی مقامی صحت کی ایجنسیوں کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور خصوصی احتیاط برتیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس صورتحال کو ’بین الاقوامی تشویش کی عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال‘ (پی ایچ ای آئی سی) قرار دیا ہے۔ایبولا کی وبا کا تیزی سے پھیلاؤ، عالمی ادارہ صحت نے بجائی خطرے کی گھنٹیوزارت صحت نے ایک ایڈوائزری میں کہا کہ ’’ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اور دیگر متاثرہ ممالک میں بدلتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور ڈبلیو ایچ او کی سفارشات کے مطابق حکومت تمام ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ اگلی اطلاع تک ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، یوگانڈا اور جنوبی سوڈان کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔‘‘ وزارت صحت نے بتایا کہ ہندوستان میں ’بونڈی بوگیو وائرس اسٹرین‘ کے باعث ہونے والی ایبولا بیماری کا کوئی بھی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔افریقہ سنٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (افریقہ سی ڈی سی) نے باضابطہ طور پر بونڈی بوگیو اسٹرین ایبولا وائرس کی بیماری کی موجودہ لہر کو ’براعظمی سلامتی کے لیے عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال‘ قرار دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنسی کمیٹی نے 22 مئی کو عارضی سفارشات جاری کیں تاکہ انٹری پوائنٹس پر بیماری کی نگرانی کو مضبوط کیا جا سکے تاکہ ان علاقوں سے آنے والے نامعلوم بخار والے مسافروں کا پتہ لگایا جا سکے، ان کا اندازہ لگایا جا سکے، رپورٹ کیا جا سکے اور ان کا انتظام کیا جا سکے۔ بیان کے مطابق ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اور یوگانڈا کی سرحد سے متصل ممالک، بشمول جنوبی سوڈان، بیماری پھیلنے کے انتہائی خطرے پر مانے جا رہے ہیں۔ایبولا پر ہندوستان الرٹ! ہوائی اڈوں پر سختی بڑھی، متاثرہ ممالک سے آنے والوں کی ہوگی جانچایبولا بیماری ایک وائرل ’ہیمرجک‘ بخار ہے، جو ایبولا وائرس کے ’بونڈی بوگیو‘ اسٹرین کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ ایک سنگین بیماری ہے، جس میں شرح اموات کافی زیادہ ہوتی ہے۔ فی الحال، بونڈی بوگیو اسٹرین کی وجہ سے ہونے والی ایبولا بیماری کی روک تھام یا علاج کے لیے کسی بھی ویکسین یا مخصوص طریقہ علاج کو منظوری نہیں دی گئی ہے۔