واشنگٹن (24 مئی 2026): امریکا ایران معاہدے کو بائیڈن پالیسی سے مماثل کہنے پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے مائیک پومپیو کو شٹ اپ کال مل گئی۔سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران سے ٹرمپ انتظامیہ کے ممکنہ معاہدے کو جو بائیڈن کی پالیسیوں سے ملتا جلتا قرار دے دیا۔ایکس پر مائیک پومپیو نے لکھا کہ اس طرح کے معاہدے سے ایران کو مالی وسائل تک رسائی، یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز پر زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔انھوں نے لکھا ’’ایران کے ساتھ جو معاہدہ زیرِ غور ہے، وہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وینڈی شرمین، رابرٹ میلی اور بین رھوڈز کی حکمتِ عملی کی کتاب سے سیدھا نکالا گیا ہو: پاسداران انقلاب کو اسلحۂ تباہیِ عامہ کا پروگرام بنانے اور دنیا میں دہشت پھیلانے کے لیے مالی وسائل فراہم کرو۔‘‘پومپیو نے لکھا ’’یہ کسی طور بھی ’امریکا فرسٹ‘ پالیسی نہیں۔ بات بالکل واضح ہے: اس آبنائے کو کھولو۔ ایران کی مالی وسائل تک رسائی ختم کرو۔ ایران کی اتنی عسکری صلاحیت تباہ کر دو کہ وہ خطے میں ہمارے اتحادیوں کو دھمکی نہ دے سکے۔ یہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ اب وقت آ گیا ہے۔‘‘ایران کے ساتھ معاہدے کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے، ڈونلڈ ٹرمپThe deal being floated with Iran seems straight out of the Wendy Sherman-Robert Malley-Ben Rhodes playbook: Pay the IRGC to build a WMD program and terrorize the world.Not remotely America First. It’s straightforward: Open the damned strait. Deny Iran access to money. Take out…— Mike Pompeo (@mikepompeo) May 23, 2026پومپیو کے اس بیان کا مفہوم یہی ہے کہ وہ موجودہ ممکنہ ایران معاہدے کو اوباما/بائیڈن دور کی ایران پالیسی جیسا سمجھ رہے ہیں۔ انھوں نے خاص طور پر رابرٹ میلی، وینڈی شرمین اور بین رھوڈز کا ذکر کیا، جو ایران کے ساتھ سفارتی معاہدوں اور نرم مؤقف سے منسلک سمجھے جاتے ہیں، خصوصاً جوہری معاہدے (JCPOA) کے تناظر میں۔ پومپیو کا مؤقف یہ ہے کہ ایسے معاہدے ایران کو مالی فائدہ دیتے ہیں، جس سے وہ مضبوط ہوتا ہے۔وائٹ ہاؤس سینئر اہلکار کا ردِ عملوائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار اسٹیون شیونگ نے مائیک پومپیو کا بیان مسترد کرتے ہوئے اُنھیں منہ بند رکھنے کا مشورہ دے دیا۔ کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون شیونگ نے آپے سے باہر ہوتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ پومپیو ایران کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں شامل نہیں ہیں، وہ نہیں جانتے کہ کیا ہو رہا ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنا منہ بند رکھیں۔یاد رہے کہ مائیک پومپیو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور میں امریکا کے وزیر خارجہ تھے۔امریکا ایران معاہدہواضح رہے کہ امریکا ایران معاہدے میں اہم پیش رفت کا امکان پیدا ہو گیا ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی تصدیق کر دی ہے اور کہا ہے کہ ایران سے متعلق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، ممکن ہے آج، کل یا آئندہ چند روز میں اس حوالے سے کوئی اہم اعلان ہو۔Mike Pompeo has no idea what the fuck he’s talking about. He should shut his stupid mouth and leave the real work to the professionals. He’s not read into anything that’s happening, so how would he know. https://t.co/l9sF8vdv6i— Steven Cheung (@StevenCheung47) May 23, 2026انھوں نے کہا امید ہے کہ ایران سے متعلق کوئی اچھی خبر آ جائے، صدر ٹرمپ کی ترجیح ہے کہ ایران کے معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔ امریکا ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا، آبنائے ہرمز ہر صورت کھلی رہنی چاہیے، ایران کو اپنے افزودہ یورینیم کے معاملے پر بھی پیش رفت کرنا ہوگی، مسئلے کا حل نکالنا ضروری ہے۔