کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سی بی ایس ای امتحانی نتائج کے تنازعہ پر مرکزی حکومت کو سخت نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امتحانی نظام میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، جس سے لاکھوں طلبہ اور ان کے اہل خانہ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کو ’سوچی سمجھی سازش‘ قرار دیتے ہوئے آزاد عدالتی جانچ اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔راہل گاندھی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ سی بی ایس ای امتحانات کے نتائج میں گڑبڑیوں نے ملک کے لاکھوں بچوں کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر خاموش ہے اور نہ ہی کسی سطح پر جواب دہی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کمپنی ’سی او ای ایم پی ٹی‘ کو امتحانی عمل سے متعلق ذمہ داری دی گئی، وہ پہلے ’گلوب ارینا‘ نام سے کام کر چکی ہے اور ماضی میں بھی تنازعات کا سامنا کر چکی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی کمپنی کو سی بی ایس ای کا کام کس بنیاد پر دیا گیا، اس کے انتخاب میں کن اصولوں اور ضابطوں کو نظر انداز کیا گیا اور ماضی کے ریکارڈ کی جانچ کیوں نہیں کی گئی۔ راہل گاندھی نے یہ بھی سوال کیا کہ متعلقہ کمپنی اور مرکزی حکومت کے درمیان کیا تعلقات ہیں۔کانگریس رہنما نے کہا کہ لاکھوں طلبہ کا مستقبل ایک حساس معاملہ ہے اور اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگی ہوئی ہے تو ذمہ دار افراد کو سامنے لانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس معاملے کی تہہ تک جائے گی اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھاتی رہے گی۔ادھر کانگریس نے سی بی ایس ای کی آن اسکرین مارکنگ نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ دہراتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت معاملے کی سنگینی کو نظر انداز کر رہی ہے۔CBSE परीक्षा परिणाम में भयंकर हेर-फेर हो गई जिससे देश के लाखों बच्चे और उनके माता-पिता सदमे में हैं।और मोदी जी? हमेशा की तरह - न जवाब, न ज़िम्मेदारी, न शर्म।जिस कंपनी COEMPT को यह ज़िम्मेदारी मिली, वह पहले Globarena के नाम से तेलंगाना में 2019 में यही कारनामे कर चुकी है।नाम… pic.twitter.com/iZG8bvUXPJ— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) May 27, 2026یہ تنازعہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب بارہویں جماعت کے بعض طلبہ نے امتحانی نمبروں میں گڑبڑی کے الزامات عائد کیے۔ بعض طلبہ کا کہنا ہے کہ بورڈ کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی ان کی جوابی کاپیوں کی اسکین نقل ان کی اصل لکھائی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اس کے بعد آن اسکرین مارکنگ نظام کے تحت جوابی کاپیوں کے ممکنہ تبادلے سے متعلق خدشات پیدا ہوئے ہیں۔سی بی ایس ای ذرائع کے مطابق موصول ہونے والی تمام شکایات کی ترجیحی بنیاد پر جانچ کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب سیاسی سطح پر اس معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور اپوزیشن حکومت سے جواب طلب کر رہی ہے۔