تہران (27 مئی 2026): پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا ساحلی علاقہ جارح قوتوں کے لیے قبرستان بنا دیا جائے گا۔پاسدارانِ انقلاب بحریہ کے سیاسی معاون محمد اکبر زادہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکانات کم ہیں، تاہم ایران کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے رپورٹ کیا کہ محمد اکبر زادہ نے کہا ’’دشمن کی کمزوری کی وجہ سے جنگ کا امکان کم ہے، لیکن مسلح افواج پوری طرح چوکس اور انتظار میں ہیں۔‘‘انھوں نے مزید کہا ’’اس بات میں کوئی شک نہ کرے کہ ہم چاہ بہار سے ماہشہر تک کے علاقے کو جارحین کے لیے قبرستان بنا دیں گے۔‘‘ اس سے محمد اکبر زادہ کی مراد ایران کے طویل جنوبی ساحل کے دونوں سروں پر واقع مقامات تھے۔لبنان سے متعلق تازہ ترین خبریں: مہلک اسرائیلی حملوں میں 31 شہری جاں بحقالجزیرہ کے مطابق تہران یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر فواد ایزدی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مستقبل میں امریکا کے ساتھ ہونے والے کسی بھی معاہدے کے لیے ایک ’’ضمانت‘‘ کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایزدی نے کہا کہ ایران کے پاس واحد سنجیدہ چیز جس کے بارے میں ٹرمپ زیادہ کچھ نہیں کر سکتے، وہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر امریکا نے پچھلی بار کی طرح ایران کے ساتھ کسی نئے معاہدے کی خلاف ورزی کی، تو تہران اس اہم آبی گزرگاہ میں خلل پیدا کر سکتا ہے۔ یہ وہ دباؤ کی طاقت ہوگی جو ایران کے پاس ہوگی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امریکی حکومت مناسب رویہ اختیار کرے۔ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران چیمبر آف کامرس کے اراکین سے ملاقات کی، جس میں انھوں نے جنگ کے جاری رہنے کے دوران ایران کی معیشت، خصوصاً نجی شعبے کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پزشکیان نے کہا ’’آج اصل میدانِ جنگ معاشی جنگ ہے۔‘‘انھوں نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ نجی شعبہ جتنا زیادہ باصلاحیت، متحرک اور فعال ہوگا، ملک کی معاشی بنیاد اتنی ہی مضبوط ہوگی، اور بیرونی دباؤ اور خطرات کے مقابلے میں ہماری قومی طاقت بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ صدر نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل جنگ کے عسکری محاذ پر ناکام ہو چکے ہیں اور اب وہ ایران کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے پر توجہ دے رہے ہیں۔