ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے 48 گھنٹوں میں ہرمزگان میں ایرانی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، امریکی فوج کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا سیزفائر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں سفارتی کوششوں کے دوران امریکی کارروائیوں نے واشنگٹن کی بدنیتی بے نقاب کر دی، امریکی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں اور تمام نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کسی بھی حملےکو بغیر جواب کے نہیں چھوڑے گا ہم اپنی خودمختاری کے دفاع کےلیے پوری طرح تیار ہیں۔امریکی فوج نے جنوبی ایران پر فضائی حملہ کر دیا، سینٹکام کی تصدیقایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدہ جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کے دوران پیر کی شب خلیجِ فارس کے قریب ایرانی شہر بندر عباس اور آبنائے ہرمز کے اطراف بمباری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس نے خطے میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ترجمان سینٹکام نے بتایا کہ انھوں نے ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس اور مائنز بچھانے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے، یہ حملے سیلف ڈیفنس میں کیے گئے، جو امریکی فوجیوں کو ایرانی خطرات سے بچانے کے لیے تھے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ جنگ بندی کے دوران تحمل کے ساتھ دفاع کر رہی ہے۔ادھر ایرانی میڈیا نے بھی بندر عباس پر 3 حملوں کی تصدیق کر دی ہے، میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد صوبہ ہرمزگان کا فضائی دفاعی سسٹم فعال کر دیا گیا ہے، اور خلیج عمان میں امریکی جنگی بحری جہازوں پر میزائل داغے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے کہا کہ بندر عباس میں صورت حال قابو میں ہے اور شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے باوجود تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ ایجنسی کے مطابق سرکاری ذرائع نے ابھی تک اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق بندر عباس میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جب کہ فارس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اسی نوعیت کی آوازیں اہم آبی گزرگاہ کے قریب واقع سیرک اور جاسک کے علاقوں میں بھی سنائی دیں۔