وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ مرکزی کابینہ کے اجلاس میں ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ کابینہ کے اس فیصلے سے راشن حاصل کرنے والے 80 کروڑ لوگوں پر براہ راست اثر پڑے گا۔ حکومت نے راشن کے نظام (پی ڈی ایس – پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم) کے حوالے سے ایک بہت بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے ’سارتھک-پی ڈی ایس‘ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس پورے منصوبے پر تقریباً 25530 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔مرکزی کابینہ کے اجلاس کے بعد اشونی ویشنو نے بتایا کہ ملک میں 80 کروڑ لوگوں کو راشن فراہم کرنے کا پروگرام چل رہا ہے۔ اس ’سارتھک پی ڈی ایس‘ منصوبے میں 3 تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان میں ریاستی حکومتوں کی مدد کرنے، ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے، اور اے آئی کے تحت اب پی ڈی ایس کے مستفیدین کی رجسٹریشن کیے جانے کی بات شامل ہے۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے بتایا کہ ریاستی حکومتوں کو فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے بڑے گوداموں سے اناج کو مختلف اضلاع، بلاکس اور آخر میں راشن کی دکانوں تک پہنچانے میں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اب مرکزی حکومت ریاستوں کو مالی امداد فراہم کرے گی۔دوسری تبدیلی یہ ہے کہ راشن دکانداروں (ڈیلر) کا کمیشن بڑھایا جائے گا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ راشن تقسیم کرنے والے ڈیلرز کے کمیشن میں کافی عرصے سے اضافہ نہیں ہوا تھا اور مسلسل ڈیلرز کا کمیشن بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا تھا۔ آج حکومت نے ان کے اس مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا کمیشن بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تیسری اور آخری تبدیلی یہ ہے کہ پورے راشن کے نظام کو مزید جدید اور شفاف بنانے کے لیے اس میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت اس بھاری بھرکم بجٹ سے راشن پہنچانے کے اخراجات خود اٹھائے گی، دکانداروں کی آمدنی بڑھائے گی اور پورے سسٹم کو ڈیجیٹل اور جدید بنائے گی۔مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ موجودہ لو کی صورتحال پر تمام وزراء کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کے قوم کے نام پیغام کو پہنچانے کے لیے متعدد ٹویٹس کیے گئے۔ اس پیغام کے جواب میں، ان مخصوص اقدامات پر بحث ہوئی جو ہر وزارت اور محکمہ اپنے اپنے دائرہ کار میں اٹھا سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ لو کے دوران ہندوستانی شہریوں کو راحت دینے اور ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے اقدامات پر غور و خوض کیا گیا، جس میں خاص طور پر ان سہولیات اور تدابیر پر توجہ مرکوز کی گئی جنہیں وزارت صحت، آبی وسائل کے شعبے اور دیگر متعلقہ شعبوں میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے بہت واضح طور پر کہا کہ جب اس طرح کے بڑے چیلنجز کا سامنا ہو، تو ہمیں ان کی طرف ’پورے ملک کے جذبے‘ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔